تیل و گیس کے نئے ذخائر کی خبر نے توانائی کے شعبے میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے، جب ملک کو توانائی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، ضلع سانگھڑ سے تیل اور گیس کی نئی دریافت نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی حوصلہ افزا اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق ضلع سانگھڑ میں واقع بوبی مائننگ لیز کے بوبی ڈیپ ون کنویں سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں ، کمپنی نے اس اہم کامیابی سے حکومت اور اپنے شیئر ہولڈرز کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
تیل و گیس کے نئے ذخائر سے کتنی پیداوار حاصل ہوگی؟
ترجمان کے مطابق نئے دریافت ہونے والے کنویں سے یومیہ تقریباً 2 ہزار بیرل تیل حاصل ہوگا، اس کے علاوہ گیس کی ابتدائی پیداوار کا تخمینہ 11 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ لگایا گیا ہے۔
ترجمان او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ کنویں کو سمبڑ فارمیشن میں 3 ہزار 305 میٹر کی گہرائی تک کھودا گیا، جہاں کامیاب آزمائش کے بعد تیل اور گیس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
توانائی بحران پر اثرات
ماہرین کے مطابق حاصل ہونے والی تیل کی یومیہ مقدار قابل ذکر ہے، اگر پیداوار تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو اس سے ملک میں تیل اور گیس کی طلب و رسد کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مزید یہ کہ مقامی سطح پر توانائی وسائل کی دریافت درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی سمت ایک مثبت قدم تصور کی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیا ہے۔
عوام اور سرمایہ کاروں کے لیےخوشخبری
نئی دریافت کی خبر سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر بھی مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کے تناظر میں شہری ایسے منصوبوں کو ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب سرمایہ کاروں کی نظریں بھی او جی ڈی سی ایل کی آئندہ کارکردگی پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مزید کامیاب دریافتیں ہوتی ہیں تو اس سے ملکی توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے تیل و گیس کے نئے ذخائر مستقبل کیلئے امید کی کرن
ضلع سانگھڑ سے تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے، اگرچہ ملک کی مجموعی ضروریات کے مقابلے میں یہ مقدار محدود ہے، تاہم اس پیش رفت سے توانائی بحران پر قابو پانے، درآمدی بل کم کرنے اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال کی نئی امید ضرور پیدا ہوئی ہے۔