ایک آسان ورزش جس سے ہارٹ اٹیک کے خطرے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

ایک آسان ورزش جس سے ہارٹ اٹیک کے خطرے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد دل کے مختلف امراض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماہرین دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور روک تھام پر مسلسل زور دیتے ہیں۔

اگرچہ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی، تمباکو نوشی اور غیر صحت مند طرزِ زندگی کو دل کے امراض کی بڑی وجوہات سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے دل کی صحت جانچنے کے لیے ایک نہایت آسان طریقے کی نشاندہی کی ہے۔

امریکا کے ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق پش اپس لگانے کی صلاحیت دل کی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سادہ ورزش جسمانی فٹنس اور قلبی صحت کا ایک مؤثر اشارہ ثابت ہوسکتی ہے۔

تحقیق کے دوران ایک ہزار ایک سو چار فائر فائٹرز کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر چالیس برس تھی،محققین نے یہ جائزہ لیا کہ ہر فرد ایک وقت میں کتنے پش اپس مکمل کرسکتا ہے اور اس دوران ان کی دل کی دھڑکن کی رفتار کا بھی مشاہدہ کیا گیا، بعد ازاں دس سال تک ان افراد کی صحت پر نظر رکھی گئی تاکہ امراضِ قلب کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں :سردیوں میں ہارٹ اٹیک کا بڑھتا ہوا خطرہ، احتیاط کیسے کی جائے؟

دس سالہ مشاہداتی عرصے میں امراضِ قلب کے37 کیسز سامنے آئے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد زیادہ تعداد میں پش اپس لگانے کی صلاحیت رکھتے تھے، ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔

تحقیق کے مطابق چالیس یا اس سے زیادہ پش اپس مکمل کرنے والے افراد میں امراضِ قلب کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 96 فیصد تک کم پایا گیا،اسی طرح 21 سے30 پش اپس مکمل کرنے والوں میں خطرہ چوراسی فیصد جبکہ گیارہ سے بیس پش اپس لگانے والوں میں 64 فیصد تک کم دیکھا گیا،دوسری جانب وہ افراد جو ایک وقت میں صرف صفر سے دس پش اپس ہی مکمل کر سکتے تھے، ان میں دل کے امراض کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا۔

ماہرین کے مطابق پش اپس صرف بازوؤں اور کندھوں کی ورزش نہیں بلکہ پورے جسم کو متحرک کرنے والی سرگرمی ہے، اس ورزش سے جسمانی برداشت میں اضافہ ہوتا ہے، وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے، بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے اور خون میں نقصان دہ چکنائی اور شکر کی سطح کم ہونے لگتی ہے، یہ تمام عوامل دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ تحقیق میں شامل افراد فائر فائٹرز تھے جو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ متحرک اور جسمانی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، اس لیے نتائج کو ہر فرد پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر عام افراد بھی بتدریج پش اپس کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تو وہ اپنی جسمانی فٹنس اور دل کی صحت میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج ایک معروف طبی جریدے میں شائع کیے گئے ہیں، جنہوں نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ صرف مجموعی صحت بلکہ دل کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے،جرنل جاما نیٹ ورک میں اس تحقیق کے نتائج شائع ہوئے۔

editor

Related Articles