نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے صوبائی سول رجسٹریشن ریکارڈز اور نیشنل سٹیزن ڈیٹا بیس کے درمیان بڑے پیمانے پر میل ملاپ کا عمل مکمل کیا جس کے تحت تقریباً 4.2 ملین شناختی کارڈز منسوخ کر دیے گئے۔
یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا کہ قومی ڈیٹا بیس ہر شہری کی موجودہ صورتحال کی درست عکاسی کرے اور شناختی نظام کی درستگی، سالمیت اور اعتماد مضبوط ہو۔
نادرا کے مطابق منسوخ کیے گئے کارڈز وہ تھے جن کے حامل افراد متعلقہ صوبائی سول رجسٹریشن سسٹمز میں پہلے ہی مرحوم کے طور پر درج تھے۔ اس اقدام سے نہ صرف قومی ڈیٹا بیس کی معیار اور سالمیت میں اضافہ ہوا بلکہ حکومت کے ریکارڈز میں ہم آہنگی بہتر ہوئی اور مرحوم افراد کی شناخت کے غیر قانونی استعمال، دھوکہ دہی یا غلط استعمال کے امکانات میں کمی آئی۔
اس کے ساتھ ساتھ اس سے ریاست کو آبادیاتی تجزیہ، پبلک پالیسی کی تیاری اور سروس فراہم کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد بنیاد بھی فراہم ہوئی۔
نادرا نے بتایا کہ اس بڑے عمل کے باوجود اگلے تین مہینوں میں صرف 2,374 کیسز ایسے سامنے آئے جن میں کسی شناختی کارڈ کی منسوخی موت کی رجسٹریشن کی بنیاد پر کی گئی تھی اور بعد میں درستگی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ کل عمل کا محض ایک چھوٹا حصہ ہے۔
متاثرہ شہریوں کی سہولت کے لیے نادرا نے ایک فوری اصلاحاتی نظام قائم کیا ہے، جس کے تحت شناختی ریکارڈز سادہ بایومیٹرک تصدیق اور ضروری چیکس کے بعد فوراً بحال کیے جاتے ہیں۔ شہریوں کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مرحوم کی موت کی رجسٹریشن کس رشتہ دار کی درخواست پر متعلقہ یونین کونسل میں کی گئی تھی۔
قانون کے مطابق مرحوم کے ورثاء اور قریبی رشتہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ موت کی رجسٹریشن متعلقہ یونین کونسل یا دیگر مجاز سول رجسٹریشن اتھارٹی کے ساتھ مکمل کریں۔ بروقت رجسٹریشن نہ صرف خاندان کے قانونی اور انتظامی امور میں مدد دیتی ہے بلکہ قومی ریکارڈز کی درستگی اور سالمیت برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مزید برآں نادرا عوامی ہسپتالوں اور بڑے نجی صحت کے اداروں میں آہستہ آہستہ خودکار موت کی اطلاع کا نظام متعارف کرا رہا ہے، جس سے موت کے واقع ہونے اور قومی ریکارڈز کی اپڈیٹ میں تاخیر کم ہو گی۔ اسی طرح پیدائش اور بعد میں شادی کے لیے بھی اطلاع کے ایسے نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں، جو پاکستان کے سول رجسٹریشن اور قومی شناختی نظام کو زیادہ جدید، مؤثر، مربوط اور محفوظ بنانے میں ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔