برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا بچھو تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے اس خطے میں موجود تھا، جس نے ماہرین کو قدیم زندگی کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں۔
یہ تحقیق مانچسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے، جس کے مطابق اس دیوہیکل بچھو کو پرائرکٹورس گیگاس (Palaeophonus Giganteus) کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ اس کا قد تقریباً ایک میٹر تک تھا جبکہ اس کے پنجوں کی لمبائی 16 سینٹی میٹر تک پہنچتی تھی، جو اسے اس دور کے سب سے خوفناک شکاریوں میں شمار کرتی ہے۔
محققین کے مطابق یہ بچھو اس زمانے میں زمین پر موجود تھا جب زندگی ابھی ابتدائی مراحل میں تھی اور زمین پر چھوٹے کیڑے مکوڑوں اور سادہ جانداروں کی حکمرانی تھی۔ یہ دیوہیکل جاندار سیلابی میدانوں اور آبی علاقوں کے قریب رہتا تھا جہاں اسے خوراک اور ماحول دونوں آسانی سے میسر تھے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت زمین پر زندگی کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پیچیدہ زمینی ماحولیاتی نظام، جیسے جنگلات اور بڑے جانوروں کی موجودگی سے بہت پہلے بھی زمین پر خطرناک اور بڑے جاندار موجود تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ نئی تحقیق کیڑے مکوڑوں اور قدیم جانداروں کی ارتقائی تاریخ کے بارے میں کئی نئے سوالات اور پہلو سامنے لاتی ہے، جو مستقبل میں مزید تحقیق کا دروازہ کھول سکتی ہے۔یہ دریافت قدیم دنیا کے ان رازوں میں سے ایک ہے جو بتاتی ہے کہ زمین کی تاریخ کتنی زیادہ پیچیدہ اور حیران کن رہی ہے۔کیڑے