ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں دہشتگردوں نے معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہداف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جبکہ وطن کے دفاع میں 42 اہلکار شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردی کا پہلا بڑا واقعہ منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں پیش آیا، جبکہ زیارت میں دہشتگردوں نے پولیس چیک پوسٹوں پر حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بہادر عوام اور پولیس اہلکاروں نے جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ زیارت میں کارروائی کے دوران کم از کم 15 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جبکہ شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے، جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران پیش آنے والے تین بڑے واقعات میں مجموعی طور پر 26 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ آج خاران اور دالبندین میں ہونے والی کارروائیوں میں مزید 14 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے بعد بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز میں مجموعی طور پر 54 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ منگی میں دہشتگردی کے پہلے واقعے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ آج ہونے والے حملے میں مزید 18 پولیس اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، جس کے بعد منگی میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہونے والی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے 14 دہشتگردوں کو ہلاک کیا، تاہم اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان بھی شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن ان دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان کارروائیوں میں افغان حکام کی پشت پناہی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے اور ریاست دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر سطح پر تعاقب جاری رکھے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ریاستِ پاکستان کا دہشتگردی کے خلاف مؤقف واضح اور غیر مبہم ہے اور یہ جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ “فتنہ الخوارج” کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نیچا نہیں دکھا سکتی اور ملک کے دفاع، امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔