دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم ’ستلج‘ کو اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد بھارتی پنجاب میں گوردواروں اور دیہاتی کمیونٹی مراکز میں اجتماعی طور پر دکھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، زی فائیو پر مختصر وقت کے لیے دستیاب رہنے کے بعد فلم کو ہٹا دیا گیا، تاہم اس کے باوجود پنجاب کے مختلف اضلاع میں مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فلم کی کمیونٹی اسکریننگز کا اہتمام کرنا شروع کردیا۔
موگا، لدھیانہ، برنالہ، سنگرور، امرتسر، پٹیالہ، ہوشیار پور، گورداسپور اور بٹھنڈا سمیت کئی علاقوں میں لوگ گوردواروں، دیہاتی کمیونٹی سینٹرز اور مارکیٹوں میں نصب بڑی ایل ای ڈی اسکرینوں پر فلم دیکھنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے، جبکہ اسے زی فائیو سے ہٹائے جانے کے بعد اس کی عوامی نمائش نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان اسکریننگز کے پیچھے کوئی مرکزی تنظیم موجود نہیں۔ کہیں اسپورٹس کلبوں نے چندہ جمع کرکے ایل ای ڈی اسکرین اور ساؤنڈ سسٹم کا انتظام کیا، تو کہیں گوردوارہ کمیٹیوں، مقامی رضاکاروں اور خاندانوں نے اخراجات برداشت کیے۔ بعض مقامات پر بیرون ملک مقیم پنجابیوں نے بھی مالی تعاون فراہم کیا۔
زیادہ تر اسکریننگز شام کے اوقات میں رکھی جاتی ہیں تاکہ دیہاتی اپنی روزمرہ مصروفیات مکمل کرنے کے بعد شرکت کر سکیں۔گوردواروں میں ہونے والی اسکریننگز کے دوران شرکا مذہبی روایات کے مطابق جوتے اتار کر اور سر ڈھانپ کر اندر داخل ہوتے ہیں، جبکہ دیگر مقامات پر کمیونٹی سینٹرز اور مارکیٹوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ فلم دیکھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
رضاکاروں کی جانب سے بیٹھنے کے انتظامات، ایل ای ڈی والز، آڈیو سسٹمز، انڈسٹریل کولرز اور پینے کے پانی سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث فلم دیکھنے کا انفرادی آن لائن تجربہ ایک اجتماعی سماجی تقریب میں تبدیل ہوگیا ہے۔
بالیاں میں ایک مقامی بینکوئٹ ہال میں فلم کی نمائش کرانے والے پربھ دیول کا کہنا ہے کہ عوامی ردعمل توقع سے کہیں زیادہ مثبت رہا، جبکہ ایل ای ڈی اسکرین اور ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والے ایک مقامی کاروباری شخص کے مطابق مختلف دیہات سے مسلسل نئی بکنگز موصول ہو رہی ہیں۔