سرکاری ملازمین کی ترقی کے لیے نئی شرط عائد، آڈٹ کلیئرنس کے بغیر پروموشن نہیں ہوگی

سرکاری ملازمین کی ترقی کے لیے نئی شرط عائد، آڈٹ کلیئرنس کے بغیر پروموشن نہیں ہوگی

سرکاری ملازمین کی ترقی کے عمل میں اہم تبدیلی کر دی گئی ہے، اب ترقی کے لیے صرف سنیارٹی اور اہلیت کافی نہیں ہوگی بلکہ آڈٹ کلیئرنس بھی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے ملازمین کی ترقیوں کو آڈٹ کلیئرنس سے مشروط کرتے ہوئے نو پینڈنگ آڈٹ پیرا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق لائن سپرنٹنڈنٹس گریڈ 1 اور 2 سمیت دیگر اہل ملازمین کی پروموشن کے لیے آڈٹ کلیئرنس ضروری ہوگی، آڈٹ اعتراضات ختم کیے بغیر کسی بھی ملازم کو ترقی کا پروانہ جاری نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :سندھ کا 3 ہزار 562 ارب روپے کا بجٹ پیش ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں7 فیصد اضافہ

پیسکو حکام نے تمام ڈویژنل سربراہان کو زیر التوا آڈٹ اعتراضات فوری طور پر نمٹانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروموشن بورڈ کے انعقاد سے قبل تمام اہل ملازمین کی ڈویژنل آڈٹ کلیئرنس مکمل ہونا ضروری ہے۔

نوٹیفکیشن میں متعلقہ دفاتر کو آڈٹ کلیئرنس رپورٹ 7 روز کے اندر جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ واضح کیا گیا ہے کہ جن ملازمین کے آڈٹ اعتراضات زیر التوا ہوں گے انہیں این اے پی سی (No Audit Para Certificate) جاری نہیں کیا جائے گا،پیسکو حکام نے کہا ہے کہ آڈٹ کلیئرنس میں تاخیر کی ذمہ داری متعلقہ فارمیشنز اور ڈویژنز پر عائد ہوگی۔

editor

Related Articles