سعودی عرب میں ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان افرادی قوت کی فراہمی کے معاہدے کے تحت سال 2030 تک 10 لاکھ ہنر مند پاکستانیوں کو بغیر کسی ایجنٹ کے براہِ راست سعودی عرب بھیجنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت امیدواروں کی بھرتی شفاف طریقہ کار کے ذریعے کی جائے گی جس کا مقصد نوجوانوں کو ایجنٹوں کے استحصال سے بچاتے ہوئے براہِ راست روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
پنجاب میں اس منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری پنجاب اسکلز ڈیولپمنٹ فنڈ (PSDF) کو سونپی گئی ہے۔ ادارے کی سعودی پراجیکٹ سربراہ اذکا منیر کے مطابق ادارہ ہر سال 15 ہزار تربیت یافتہ افراد کو سعودی عرب کے مختلف شعبوں میں ملازمت کے لیے بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ہنر مند ٹیلنٹ پول تشکیل دیا گیا ہے جہاں امیدواروں کے انٹرویوز کے بعد انہیں سعودی کمپنیوں کی ضروریات کے مطابق براہِ راست ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس وقت سعودی عرب میں صحت، تعمیرات، انجینئرنگ اور دیگر افرادی قوت سے متعلق شعبوں میں ہنر مند افراد کی طلب زیادہ ہے۔
دوسری جانب پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) نے بھی بیرون ملک بھرتی کا لائسنس حاصل کر لیا ہے، جس کے بعد ادارہ نوجوانوں کو کسی ایجنٹ کے بغیر براہِ راست بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
اسی پروگرام کے تحت رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے نرسنگ گریجویٹ اسد علی اور گوجرانوالہ کے محمد آصف کی سعودی عرب روانگی اسی ہفتے متوقع ہے۔ دونوں امیدوار سرکاری سرپرستی میں بغیر کسی ایجنٹ کے سعودی عرب جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق پنجاب کے علاوہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعلقہ ادارے بھی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کی نگرانی میں اس قومی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
متعلقہ اداروں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سرکاری ووکیشنل اداروں سے رابطہ کریں، ہائی ڈیمانڈ شعبوں میں ڈپلومہ اور تکنیکی تربیت حاصل کریں اور سرکاری بھرتی پروگرام کا حصہ بن کر بیرون ملک روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔