پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری اس وقت دنیا کے 30 ممالک اور خطوں میں ویزا فری، ویزا آن ارائیول (VOA) یا الیکٹرانک ٹریول اتھارٹی (ETA) کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں، جبکہ عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی پوزیشن 100ویں نمبر پر برقرار ہے۔
تازہ ترین درجہ بندی عالمی سفری سہولت کے موجودہ منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے اور ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں موسمِ گرما کے باعث بین الاقوامی سفر اپنے عروج پر ہے۔
اگرچہ رواں سال فروری میں پاکستانی پاسپورٹ 97ویں نمبر تک پہنچ گیا تھا، تاہم اب اس کی درجہ بندی دوبارہ 100ویں نمبر پر برقرار ہے اور یہ تبدیلی سال کے دوران عالمی ویزا پالیسیوں اور مختلف ممالک کے سفری ضوابط میں ردوبدل کے باعث سامنے آئی۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد روانگی سے قبل روایتی ویزا حاصل کیے بغیر 30 ممالک اور خطوں کا سفر کر سکتے ہیں۔ ان مقامات پر داخلہ ویزا فری، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک ٹریول اتھارٹی کے نظام کے تحت ممکن ہے۔
ان ممالک میں مالدیپ، نیپال، سری لنکا، کینیا، روانڈا، سیشلز، بارباڈوس، ڈومینیکا، ہیٹی، وانواتو اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت کئی دیگر مقامات شامل ہیں، جہاں پاکستانی شہری نسبتاً آسان سفری شرائط کے تحت داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ان ممالک میں سفر کا موزوں وقت وہاں کے موسم اور جغرافیائی محلِ وقوع کے مطابق مختلف ہوتا ہے ، مثال کے طور پر مالدیپ، سیشلز اور بارباڈوس جیسے ساحلی مقامات پر سال بھر سفر کیا جا سکتا ہے، تاہم خشک موسم کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔
نیپال اور سری لنکا میں موسمِ بہار اور خزاں سیاحت کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں، جبکہ کینیا اور روانڈا میں جنگلی حیات کے مشاہدے کے لیے جون سے اکتوبر کا عرصہ زیادہ موزوں ہوتا ہے۔
یہ سہولت نہ صرف سیاحوں بلکہ کاروباری افراد، طلبہ اور بیرونِ ملک سفر کی منصوبہ بندی کرنے والے خاندانوں کے لیے بھی اہم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب تعطیلات کے باعث بین الاقوامی سفر میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
رواں سال کے دوران پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں کئی بار تبدیلی دیکھی گئی، 2025 میں پاکستان 103ویں نمبر پر تھا اور تقریباً 31 مقامات تک رسائی حاصل تھی۔
بعد ازاں جنوری 2026 میں پاکستان 98ویں نمبر پر آگیا، جبکہ فروری میں مزید بہتری کے بعد 97ویں پوزیشن حاصل کر لی، جہاں پاکستانی شہریوں کو 32 مقامات تک رسائی میسر تھی۔ تاہم مئی میں درجہ بندی دوبارہ 100ویں نمبر پر آگئی اور قابلِ رسائی مقامات کی تعداد 30 رہ گئی۔ جولائی 2026 کی تازہ رپورٹ میں بھی یہی درجہ بندی اور سفری رسائی برقرار رکھی گئی ہے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کیسے تیار کیا جاتا ہے؟
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے خصوصی ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا کے مختلف پاسپورٹس کو اس بنیاد پر درجہ بندی دی جاتی ہے کہ ان کے حامل افراد پیشگی ویزا حاصل کیے بغیر کتنے ممالک یا خطوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ درجہ بندی مستقل نہیں ہوتی بلکہ عالمی ویزا پالیسیوں، دوطرفہ سفارتی معاہدوں اور مختلف ممالک کی امیگریشن شرائط میں تبدیلی کے ساتھ وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
اگرچہ پاکستانی پاسپورٹ کو اب بھی عالمی سطح پر مضبوط ترین پاسپورٹس کے مقابلے میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ویزا فری، ویزا آن ارائیول اور الیکٹرانک ٹریول اتھارٹی کے ذریعے 30 مقامات تک رسائی پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم سفری سہولت تصور کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سفارتی تعلقات اور ویزا معاہدوں میں بہتری سے پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی مزید بہتر ہو سکتی ہے۔