اسلام آباد کے یادگار مونال ریسٹورنٹ سے متعلق بڑی خوشخبری ، آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ

اسلام آباد کے یادگار مونال ریسٹورنٹ سے متعلق بڑی خوشخبری ، آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز کے علاقے پیرسوہاوہ میں واقع مونال ریسٹورنٹ سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے ریسٹورنٹ کو گرانے کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے اس معاملے میں جاری حکم امتناع بھی ختم کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ زمین کی ملکیت سے متعلق تنازع کا فیصلہ متعلقہ ٹرائل کورٹس کریں گی اور وہ یہ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ طور پر کریں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انتظامی اور ریگولیٹری نوعیت کے معاملات کا فیصلہ متعلقہ ادارے اور ریگولیٹری باڈیز اپنے قانونی دائرہ اختیار میں کریں گی۔

وفاقی آئینی عدالت نے زیر سماعت مقدمات کے جلد از جلد فیصلے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ وہ اس کیس سے متعلق تمام مقدمات کو بلا تاخیر نمٹائیں تاکہ طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع کا حتمی حل سامنے آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی دوڑ، اوڈی بازی لے گی، گاڑی 90 لاکھ سستی کر دی

دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ عدالتی فیصلے میں متعدد اہم قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی مقدمے یا نظرثانی درخواست کے دائر ہونے پر عدالت کو برہمی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے اور عدالت جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون اور میرٹ کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔

سماعت کے دوران مونال ریسٹورنٹ کے وکیل احسن بھون نے عدالت سے کہا کہ بینچ نے مقدمے کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں ججوں کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں عدالت صرف مقدمے کے ریکارڈ دلائل اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ سنائے گی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلوں میں غیر ضروری اور غیر متعلقہ باتوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہم فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانیاں نہیں لکھیں گے۔ فیصلہ پڑھا تو محسوس ہوا کہ اس میں بہت سی ایسی باتیں بھی شامل تھیں جو عدالتی کارروائی کا حصہ ہی نہیں تھیں۔

عدالت کے فیصلے کے بعد مونال ریسٹورنٹ سے متعلق جاری قانونی تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اب زمین کی ملکیت اور دیگر متعلقہ معاملات پر حتمی فیصلہ متعلقہ ٹرائل کورٹس کریں گی جبکہ انتظامی اقدامات کے حوالے سے متعلقہ سرکاری ادارے قانون کے مطابق کارروائی کے مجاز ہوں گے۔

 وفاقی آئینی عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف مونال ریسٹورنٹ کیس بلکہ آئندہ ایسے مقدمات کے لیے بھی ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے جس میں عدالتی اور انتظامی اختیارات کی حدود کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

editor

Related Articles