خیبرپختونخوا محکمہ کھیل میں کروڑوں کی کرپشن کا نیا انکشاف

خیبرپختونخوا محکمہ کھیل میں کروڑوں کی کرپشن کا نیا انکشاف

پاڑہ چنار ضلع کرم میں حال ہی میں محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے زیر نگرانی کروڑوں روپے کی لاگت سے نصب کیا گیا آسٹرو ہاکی ٹرف ناقص مٹیریل اور مبینہ کرپشن کے باعث تنصیب کے صرف 2 ماہ کے اندر مختلف مقامات سے اکھڑ گیا، جس پر حکام نے تکنیکی خامیاں سامنے آنے کے بعد کنٹریکٹر کے خلاف کارروائی کی سفارش کر دی ہے۔

خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے ہیڈکوارٹر پاڑہ چنار سے ایک انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں کھیلوں کے فروغ کے لیے مختص کروڑوں روپے کے عوامی فنڈز کو مبینہ کرپشن کی نذر کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں کرپشن الزامات کا سلسلہ تیز، مشیر سیاحت اور ڈی جی آمنے سامنے

مقامی اسٹیڈیم میں نوجوانوں کے لیے بچھایا گیا جدید آسٹرو ہاکی ٹرف اپنی مدتِ ضمانت تو دور کی بات، محض 60 دن بھی برقرار نہ رہ سکا۔

موقع سے حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرف زمین کی بنیاد سے مکمل طور پر الگ ہو چکا ہے، جس سے کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

سرکاری دستاویزات اور حکام کی سفارشات

موصولہ سرکاری دستاویزات کے مطابق  محکمہ کھیل کے اعلیٰ حکام نے منصوبے میں واضح فنی خرابیوں اور ناقص معیار کا اعتراف کیا ہے۔

دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعلقہ نگرانی کرنے والے عملے نے مٹیریل کے غیر معیاری ہونے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد کنٹریکٹر کے خلاف سخت قانونی اور مالی کارروائی کی سفارشات جاری کر دی گئی ہیں۔

 تاہم اب تک عملی طور پر کنٹریکٹر کے خلاف کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا، جس سے ملی بھگت کا شک مزید گہرا ہو رہا ہے۔

مزید تفصیلات اور اٹھتے ہوئے اہم سوالات

اس منصوبے کی لاگت لگ بھگ 80 ملین روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس سنگین معاملے نے صوبائی حکومت کی گورننس اور مانیٹرنگ سسٹم پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں

کیا ٹرف کی تنصیب کے وقت مقررہ بین الاقوامی تکنیکی معیار (فلیٹنس اور بیس کوالٹی) کو مدنظر رکھا گیا تھا؟ منصوبے کی منظوری اور معائنہ کس سرکاری ادارے یا سب انجینئر نے دیا تھا؟

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی اندرونی احتساب کمیٹی کا بڑا اقدام، خیبرپختونخوا میں کرپشن کیخلاف شکایات کیلئے 4 علاقائی کمیٹیاں قائم

کیا یہ منصوبہ ابھی ڈیفیکٹ لائیبلٹی (ضمانتی مدت) میں شامل ہے، اور کیا کنٹریکٹر کی سیکیورٹی رقم ضبط کی جائے گی؟ اب تک کنٹریکٹر کو بلیک لسٹ کیوں نہیں کیا گیا اور اس کی پشت پناہی کرنے والے افسران کون ہیں؟

صوبے میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی صورتحال

خیبرپختونخوا، بالخصوص ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے گزشتہ چند برسوں کے دوران اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔

پاڑہ چنار جیسے دور دراز اور امن کے خواہش مند علاقوں کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے یہ ہاکی ٹرف ایک خواب کی مانند تھا۔

اس سے قبل بھی صوبے کے دیگر اضلاع، جیسے مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر میں ناقص مٹیریل کی شکایات سامنے آ چکی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ محکمہ کھیل میں مانیٹرنگ کا نظام مفلوج ہو چکا ہے اور ٹھیکیداروں کو کڑی نگرانی کے بغیر ہی کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کر دیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں بیڈ گورننس، کرپشن پر آواز اٹھانا جرم ہے تو صحافی یہ جرم کرتے رہیں گے،عارف یوسفزئی

کرپشن کا ناسور اور انتظامی غفلت

جب کوئی منصوبہ تیار ہوتا ہے، تو اس کی بنیاد (بیس) سے لے کر فائنل ٹرف بچھانے تک ہر مرحلے پر سرکاری انجینیئرز کی ٹیم معائنہ کرتی ہے۔ صرف 2 ماہ میں ٹرف کا اکھڑنا ثابت کرتا ہے کہ معائنے کی تمام رپورٹیں صرف کاغذی تھیں اور رشوت کے عوض پاس کی گئیں۔

سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ

 کنٹریکٹر کے خلاف کارروائی کی سفارش کے باوجود عملی اقدامات میں تاخیر ظاہر کرتی ہے کہ بیوروکریسی یا سیاسی حلقوں میں کوئی مضبوط ہاتھ اس ٹھیکیدار کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

نوجوانوں کا نقصان

 قبائلی اضلاع کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن جب کھیلوں کے نام پر آنے والا پیسہ کرپشن کی نذر ہوگا، تو اس سے نہ صرف ٹیلنٹ ضائع ہوگا بلکہ نوجوانوں کا حکومت اور ریاستی اداروں پر سے اعتماد بھی اٹھ جائے گا۔

author

Related Articles