ہزاروں سال پرانے پتھریلے گولے، جن کا راز آج تک کوئی نہ جان سکا

ہزاروں سال پرانے پتھریلے گولے، جن کا راز آج تک کوئی نہ جان سکا

وسطی امریکی ملک کوسٹا ریکا کے جنوبی علاقے ڈیکویس ڈیلٹا میں موجود پراسرار پتھریلے گولے آج بھی ماہرین آثارِ قدیمہ کے لیے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ان گولوں کی حیرت انگیز ساخت، درست گولائی اور مقصد اب تک مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔

یہ آثار قبل از کولمبس دور (500 سے 1500 عیسوی) کی قدیم آبادیوں سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں چار اہم آثارِ قدیمہ کے مقامات، فنکا 6، باتامبال، ایل سیلینسیو اور گریجالبا 2 دریافت ہوئے ہیں۔ یہ مقامات اس دور کے پیچیدہ سماجی، سیاسی اور معاشی نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ٹیلر سوئفٹ کی شادی کا کچرا بھی بِک گیا، جانیں کیسے؟

ان مقامات پر مصنوعی ٹیلے، پتھروں سے بنی گزرگاہیں، تدفینی مقامات اور سب سے بڑھ کر مختلف جسامت کے سیکڑوں پتھریلے گولے موجود ہیں، جن کا قطر تقریباً 70 سینٹی میٹر سے لے کر 2.57 میٹر تک ہے۔

ماہرین کے مطابق ان گولوں کی سب سے حیران کن بات ان کی تقریباً مکمل گولائی، بڑی تعداد اور کئی گولوں کا اپنی اصل جگہ پر محفوظ ہونا ہے۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کس مقصد کے لیے بنایا گیا، کس ٹیکنالوجی سے تراشا گیا یا انہیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک کیسے منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :14 سال کی عمر میں طیارہ اڑانے والی سائنسدان، جسے دنیا ’اگلا آئن اسٹائن‘ کہنے لگی

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ گولے اس دور کے حکمران طبقات کی طاقت، سماجی حیثیت یا مذہبی رسومات کی علامت ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کوسٹا ریکا کے بیشتر آثارِ قدیمہ لوٹ مار کا شکار ہوئے، لیکن ان پتھریلے گولوں کی بڑی تعداد صدیوں تک مٹی کی موٹی تہوں میں دفن رہنے کے باعث محفوظ رہی۔

یہ بھی پڑھیں :مدینہ منورہ کے دیہی فارم گرمیوں میں سیاحوں کی نئی پسندیدہ منزل بن گئے

ان منفرد آثار کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یونیسکو نے 2014 میں ڈیکویس کے پتھریلے گولوں پر مشتمل قبل از کولمبس آبادیوں کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔

آج یہ پراسرار پتھریلے گولے نہ صرف کوسٹا ریکا کی پہچان سمجھے جاتے ہیں بلکہ دنیا بھر کے سائنسدانوں اور سیاحوں کے لیے بھی کشش کا مرکز ہیں، کیونکہ ان کی اصل کہانی اب بھی ایک حل طلب راز بنی ہوئی ہے۔

editor

Related Articles