پاکستان میں ایک بھکاری نے لوگوں سے ملنے والے 10،10 روپے جمع کر کے نئی ٹویوٹا کرولا خرید لی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
وائرل انٹرویو میں بھکاری نے بتایا کہ اس نے وقت کے ساتھ لوگوں کی جانب سے دیے گئے 10،10 روپے بچائے اور انہی بچتوں سے نئی گاڑی خریدنے میں کامیاب ہوا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا،’’جن جن لوگوں نے مجھے 10 روپے دیے، میں ان سب کا شکر گزار ہوں۔‘‘
یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کچھ افراد نے اسے محنت، صبر اور بچت کی مثال قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے اس دعوے کی حقیقت پر سوالات بھی اٹھائے۔سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس موقع پر پیشہ ورانہ گداگری کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیرات اور عطیات صرف مستحق افراد تک پہنچنے چاہییں اور انہیں تعلیم، صحت اور دیگر سماجی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
ناقدین کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی جانب سے دی جانے والی امداد حقیقی مستحق افراد، یتیموں، بیواؤں، معذور افراد، کم آمدنی والے خاندانوں اور مستند فلاحی اداروں تک پہنچنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر خیرات کو تعلیم، صحت، بھوک کے خاتمے اور دیگر سماجی بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو اس کے زیادہ مثبت اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم اس وائرل ویڈیو یا اس میں کیے گئے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے اس کی حقیقت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔