ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ انجلینا جولی کے امریکا سے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے منصوبوں میں ان کے تاریخی لاس اینجلس بنگلے کی فروخت میں تاخیر کے باعث رکاوٹ آ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انجلینا جولی طلاق کے بعد زندگی کا نیا باب شروع کرنا چاہتی ہیں اور مستقبل میں کمبوڈیا میں زیادہ وقت گزارنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اداکارہ امریکا اور کمبوڈیا، دونوں ممالک کی شہریت رکھتی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انجلینا جولی نے مئی میں لاس اینجلس کے علاقے لاس فیلز میں واقع اپنی تاریخی رہائش گاہ تقریباً 29.85 ملین امریکی ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کی تھی، تاہم یہ جائیداد تاحال فروخت نہیں ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اداکارہ سابق شوہر بریڈ پٹ سے علیحدگی کے بعد ماضی کی یادوں کو پیچھے چھوڑ کر اپنے بچوں کے ساتھ نئی جگہ پر نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتی ہیں۔
میڈیارپورٹ کے مطابق انجلینا جولی کافی عرصے سے اپنے جڑواں بچوں ناکس اور ویوین کے 18 سال کے ہونے کا انتظار کر رہی تھیں تاکہ بچوں کی تحویل سے متعلق قانونی پابندیوں کے خاتمے کے بعد وہ امریکا سے باہر منتقل ہونے کا فیصلہ کر سکیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اگرچہ انجلینا جولی مالی طور پر اس قدر مستحکم ہیں کہ جائیداد فروخت کیے بغیر بھی کسی دوسرے ملک منتقل ہو سکتی ہیں، لیکن وہ اپنی موجودہ زندگی کے اس باب کو مکمل طور پر بند کرکے نئی شروعات کرنا چاہتی ہیں۔
تقریباً 0.8 ہیکٹر رقبے پر قائم اس تاریخی رہائش گاہ میں سوئمنگ پول، گیسٹ ہاؤس، ٹی ہاؤس، متعدد بیڈ رومز، لائبریری، لکڑی سے آراستہ ڈائننگ روم اور جدید طرز کا کچن موجود ہے۔
انجلینا جولی نے یہ بنگلہ 2017 میں بریڈ پٹ سے علیحدگی کے بعد تقریباً 25 ملین امریکی ڈالر میں خریدا تھا۔ یہ جائیداد ماضی میں معروف امریکی فلم ساز سیسل بی ڈی مل کی ملکیت بھی رہ چکی ہے۔انجلینا جولی اس سے قبل ایک انٹرویو میں کہہ چکی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے اگلے مرحلے میں کمبوڈیا میں زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں، کیونکہ وہ اس ملک کو اپنے گھر جیسا محسوس کرتی ہیں۔