ہونڈا نے نئی CB125Fموٹر سائیکل لانچ کردی، مگر خریدار کیوں خوش نہیں؟

ہونڈا نے نئی CB125Fموٹر سائیکل لانچ کردی، مگر خریدار کیوں خوش نہیں؟

پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی سب سے بڑی کمپنی اٹلس ہونڈا نے 2026 ماڈل CB125F متعارف کرا دی ہے تاہم نئی موٹر سائیکل مارکیٹ میں آتے ہی صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ خریداروں اور آٹو ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً چار لاکھ روپے قیمت ہونے کے باوجود موٹر سائیکل میں کوئی نمایاں تکنیکی تبدیلی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے صارفین مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

 نئی CB125F میں انجن، چیسز، سسپنشن، بریکنگ سسٹم، گیئر باکس اور دیگر بنیادی خصوصیات تقریباً وہی رکھی گئی ہیں جو گزشتہ ماڈل میں موجود تھیں۔ کمپنی نے زیادہ تر تبدیلیاں صرف نئے گرافکس اسٹیکرز اور رنگوں تک محدود رکھی ہیں جبکہ کارکردگی اور ٹیکنالوجی میں کوئی بڑا اضافہ نہیں کیا گیا۔

موٹر سائیکل کے اہم فیچرز میں 125 سی سی سنگل سلنڈر فور اسٹروک، ایئر کولڈ انجن، پانچ اسپیڈ گیئر باکس، سیلف اور کِک اسٹارٹ، فرنٹ ڈسک بریک، الائے ویلز اور ٹیوب لیس ٹائرز شامل ہیں جو پہلے بھی دستیاب تھے۔

یہ بھی پڑھیں:صرف 4,700 روپے ماہانہ قسط پر ہونڈا موٹر سائیکل گھر لے جائیں، خریداروں کے لیے بڑی خوشخبری

 عالمی سطح پر اسی کیٹیگری کی موٹر سائیکلوں میں ایل ای ڈی ہیڈلائٹس، ڈیجیٹل یا TFT انسٹرومنٹ کلسٹر، فیول انجیکشن، بلوٹوتھ کنیکٹیویٹی اور جدید سیفٹی فیچرز متعارف کرائے جا رہے ہیں جبکہ پاکستانی صارفین کو ایک مرتبہ پھر زیادہ تر ظاہری تبدیلیوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔

دوسری جانب ہونڈا کے حامی صارفین کا مؤقف ہے کہ کمپنی کی اصل طاقت اس کی اعتماد مضبوط انجن آسان مرمت اسپیئر پارٹس کی ملک گیر دستیابی اور بہترین ری سیل ویلیو ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی خصوصیات ہونڈا کو پاکستان کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی موٹر سائیکل برانڈ بناتی ہیں۔

 پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث صارفین اب صرف برانڈ نہیں بلکہ قیمت کے مقابلے میں فیچرز کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔ ایسے میں نئی CB125F کے بارے میں سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ آیا صرف نئے اسٹیکرز اور رنگ تقریباً چار لاکھ روپے کی قیمت کا جواز فراہم کرتے ہیں یا نہیں

editor

Related Articles