سمندر کی تہہ میں بڑا شگاف،سائنسدانوں نے نایاب منظر قید کر لیا

سمندر کی تہہ میں بڑا شگاف،سائنسدانوں نے نایاب منظر قید کر لیا

سائنٹیفک امریکن میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ تاریخی مشاہدہ جنوبی بحرِ ہند میں کیا گیا، جہاں بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے جدید زیرِ آب آلات نصب کیے تھے۔ خوش قسمتی سے آلات کی تنصیب کے صرف 2 ماہ بعد ٹیکٹونک پلیٹوں میں اچانک دراڑ پڑ گئی، جس سے محققین کو اس نایاب عمل کو براہِ راست ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔

تحقیق کے مطابق اس واقعے کے دوران سمندر کی تہہ تقریباً 4 میٹر نیچے دھنس گئی، جبکہ دو ٹیکٹونک پلیٹیں ایک میٹر سے زیادہ فاصلے تک ایک دوسرے سے الگ ہو گئیں۔ اس دوران تقریباً 160 ملین مکعب میٹر لاوا خارج ہوا، جس نے نئی سمندری پرت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں :سام سنگ ہیلتھ کا نیا اے آئی کنسنٹ ، اجازت نہ دینے پر کیا ہوگا؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ایک واقعے نے صرف چند دنوں میں تقریباً 40 برس سے جمع ہونے والے ٹیکٹونک دباؤ کو خارج کر دیا۔

تحقیق سے ایک دیرینہ سائنسی معمہ بھی حل ہوا۔ ماہرین کئی دہائیوں سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ سمندر کے وسط میں موجود پہاڑی سلسلوں پر پلیٹوں کی مسلسل حرکت کے باوجود توقع سے کم زلزلے کیوں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندیاں تیز،مختلف ممالک نے نئے قوانین نافذ کر دیے

تحقیقی آلات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق پلیٹوں کی زیادہ تر حرکت زلزلوں کے دوران نہیں بلکہ خاموشی سے ہوتی ہے۔ ابتدائی دراڑ کے بعد زمین کے اندر سے اوپر آنے والا لاوا پلیٹوں کو آہستہ آہستہ آگے دھکیلتا ہے، جس سے زیادہ تر تبدیلی بغیر کسی نمایاں زلزلے کے واقع ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت زمین کی سطح کے تقریباً 2 تہائی حصے پر پھیلی سمندری پرت کی تشکیل اور پلیٹ ٹیکٹونکس کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

editor

Related Articles