وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان سے شہدا کے لواحقین اور پوری قوم سے فوری طور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
وزیر مملکت نے مولانا فضل الرحمان کے بیان کو شہدا اور ان کے خاندانوں کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہادت جیسے مقدس اور عظیم رتبے کو مادی مراعات یا تنخواہوں سے جوڑنا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
شہادت تنخواہ سے نہیں، ایمان سے ملتی ہے
وزیر مملکت عون چوہدری نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کئی چبھتے ہوئے سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا صاحب! کیا آپ نے شہادت جیسے عظیم رتبے کو تنخواہ سے جوڑ دیا ہے؟، قوم آپ کو دگنی تنخواہ دینے کو تیار ہے، آپ یا آپ کے بچے ملک کی خاطر سرحد پر جا کر شہید ہو کر دکھائیں۔
شہادت کسی تنخواہ یا مادی فائدے کے لیے نہیں دی جاتی، بلکہ یہ خالصتاً حب الوطنی، ایمان اور وطن پر مٹنے کے جذبے سے حاصل ہوتی ہے۔
شہدا کی قربانیوں کی توہین اور سیاسی اتحاد پر تنقید
عون چوہدری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاک فوج کے جوان اور افسران دھرتی ماں کی حفاظت کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور پوری قوم ان کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان ان مٹی کے بیٹوں کے خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) کی موجودہ سیاسی پوزیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ مولانا صاحب! اس وقت شدید فکری انتشار اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ آج اقتدار اور سیاسی مفادات کی خاطر ایسے شخص کے ساتھ جا کھڑے ہوئے ہیں جس نے برسوں انہیں سرعام گالیاں دیں اور ان کی تضحیک کی۔
عون چوہدری نے مولانا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ انہوں نے وطن کے رکھوالوں کے لیے اتنے گرتے ہوئے الفاظ کیسے ادا کیے۔
سیاسی بیانات اور عسکری تقدس کی بحث
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور سویلین بالادستی کے مباحث اکثر گرم رہتے ہیں، تاہم حالیہ کچھ عرصے سے سیاسی رہنماؤں کے بیانات میں عسکری اداروں اور شہدا کے تذکرے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
ماضی میں بھی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان قومی سلامتی کے امور پر نوک جھونک ہوتی رہی ہے، لیکن حالیہ سیاسی صف بندیوں (جہاں روایتی حریف سیاسی بقا کے لیے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں) نے رہنماؤں کے نظریاتی بیانات پر سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
عون چوہدری کا یہ بیان اسی سیاسی پس منظر اور شہداء کی تکریم کے حساس معاملے پر عوام میں پائے جانے والے غم و غصے کی ترجمانی کرتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ناپسندیدگی کا مظاہرہ
سیاسی نقطہ نظر سے عون چوہدری کا یہ جوابی حملہ انتہائی نپا تلا اور اثر انگیز ہے۔ پاکستان میں شہدا اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ عوام کا ایک مضبوط جذباتی رشتہ قائم ہے اور کسی بھی سیاستدان کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو “نوکری یا تنخواہ کا حصہ” قرار دینا عوامی سطح پر سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔
عون چوہدری نے اسی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو نہ صرف اخلاقی بلکہ سیاسی طور پر بھی دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے۔
’دگنی تنخواہ لے کر شہید ہونے کا چیلنج دے کر انہوں نے اس مذہبی و سیاسی بیانیے کو ہدف بنایا ہے جو اکثر اوقات قربانی کی تلقین تو کرتا ہے لیکن خود مصلحت پسندی کا شکار نظر آتا ہے۔
مزید برآں مولانا فضل الرحمان کے اپنے دیرینہ سیاسی حریفوں (پی ٹی آئی یا دیگر قوتوں) کے ساتھ حالیہ گٹھ جوڑ پر عون چوہدری کی تنقید نے مولانا کے سیاسی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت اپوزیشن کے بیانیے کو عوامی اور اخلاقی محاذ پر ناکام بنانے کے لیے پوری طرح جارحانہ حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔