فتنہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن معرکہ، بلوچستان میں ’آپریشن شعبان‘ جاری، اب تک 121 دہشتگرد انجام کو پہنچ گئے

فتنہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن معرکہ، بلوچستان میں ’آپریشن شعبان‘ جاری، اب تک 121 دہشتگرد انجام کو پہنچ گئے

صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے ناسور کے جڑ سے خاتمے کے لیے پاک فوج، فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ اور انتہائی منظم ’آپریشن شعبان‘ کامیابی سے جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملک دشمن عناصر اور فتنہ الخوارج کے خلاف ان موثر اور تیز رفتار کارروائیوں کے نتیجے میں دہشتگردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4 خارجی دہشتگردوں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد اس مخصوص آپریشن اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں انجام کو پہنچنے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 121 ہو گئی ہے۔

زمینی و فضائی کارروائیاں اور ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو زمین اور فضا دونوں اطراف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ان فضائی و زمینی حملوں نے خارجیوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

آپریشن شعبان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تازہ ترین کارروائی کے دوران مزید 4 ہلاکت خیز دہشتگرد انجام کو پہنچے۔ ’آپریشن شعبان‘ کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 83 تک پہنچ گئی ہے۔

مجموعی جانی نقصان

 5 جولائی سے اب تک جاری اس آپریشن اور دیگر متوازی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 121 خارجی دہشتگرد ڈھیر کیے جا چکے ہیں۔

آپریشن کا عزم اور سیکیورٹی فورسز کا مؤقف

سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشتگرد کے خاتمے تک ’آپریشن شعبان‘ پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔

سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلوچستان کی عوام امن کے دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں اور صوبے میں کسی بھی شرپسند کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بلوچستان میں فتنہ الخوارج اور سیکیورٹی اقدامات

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو اپنی طویل سرحدوں اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے طویل عرصے سے بیرونی شہ یافتہ دہشتگردوں اور تخریب کار گروہوں کے نشانے پر رہا ہے۔ ’فتنہ الخوارج‘ (کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے سہولت کار) نے حالیہ مہینوں میں صوبے کے دور دراز علاقوں میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بزدلانہ حملے تیز کیے تھے۔

اس خطرے کے تدارک کے لیے جولائی کے آغاز سے ہی سیکیورٹی فورسز نے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت ’آپریشن شعبان‘ شروع کیا، جس کا مقصد دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں، اسلحہ کے ڈپوؤں اور سپلائی لائنز کو مستقل بنیادوں پر تباہ کرنا ہے۔

آپریشن شعبان کی اہمیت اور کامیابی

فوج، ایف سی اور پولیس کا یہ مشترکہ آپریشن نہ صرف حکمت عملی کے لحاظ سے بلکہ صوبائی ہم آہنگی کے اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے۔

عام طور پر انفرادی کارروائیوں کے برعکس، اس بار تینوں بڑے سیکیورٹی اداروں کے مشترکہ نیٹ ورک نے دہشتگردوں کے لیے فرار کی تمام راہیں بند کر دی ہیں۔ محض چند دنوں کے اندر 121 ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کا نظام انتہائی فعال اور درست سمت میں کام کر رہا ہے۔

ہوائی اور زمینی طاقت کا بیک وقت استعمال ظاہر کرتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ انداز اپناتے ہوئے دہشتگردوں کو ان کی کمین گاہوں میں جا کر نشانہ بنا رہی ہیں۔

اس بڑے جانی نقصان کے بعد فتنہ الخوارج کا تنظیمی ڈھانچہ بری طرح بکھر چکا ہے۔ تاہم اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پاک افغان اور پاک ایران سرحدی سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے تاکہ بھاگنے والے دہشتگردوں کو سرحد پار پناہ نہ مل سکے۔

یہ آپریشن بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں بالخصوص سی پیک کی حفاظت اور مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ناگزیر بن چکا تھا۔

Related Articles