راولپنڈی کی سیشن عدالت نے تقریباً تین سال پرانے ماجد ستی قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا سنا دی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صافی نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا جس کے فوراً بعد ملزم کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے فرخ کھوکھر کو ہتھکڑیاں لگا کر اپنی تحویل میں لیا اور سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے احکامات پر عمل درآمد شروع کر دیا۔
عدالت کے اطراف اور احاطے میں بھی غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
استغاثہ کے مطابق 23 اگست 2022 کو تھانہ صادق آباد کے علاقے میں ماجد ستی کو مبینہ طور پر پلاٹ پر قبضے کی مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزم کے خلاف اپنا مؤقف پیش کیا جسے عدالت نے قابل قبول قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔
فرخ کھوکھر راولپنڈی کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت مرحوم تاجی کھوکھر کے صاحبزادے ہیں۔ تاجی کھوکھر کا شمار راولپنڈی کی بااثر شخصیات میں ہوتا تھا اور مختلف سیاسی ادوار میں ان کے اہم سیاسی روابط رہے۔
ذرائع کے مطابق فرخ کھوکھر نے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی رکھی تاہم بعد ازاں پارٹی چھوڑ کر جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور حالیہ عرصے میں جے یو آئی (ف) کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔
دوسری جانب مقتول ماجد ستی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ انہیں زمین پر مبینہ قبضے کی مزاحمت کرنے پر قتل کیا گیا۔ مقدمے کے فیصلے کے بعد مقتول کے ورثا نے عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ملزم کو فیصلے کے خلاف متعلقہ ہائی کورٹ میں اپیل کا قانونی حق حاصل ہے، جہاں سزا کے خلاف درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔