بحیرہ عرب سمندر میں پیش آنے والے کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے حادثے کے کئی روز گزرنے کے باوجود سرچ اینڈ ریکوری آپریشن تاحال جاری ہے امدادی ادارے پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی مشترکہ طور پر سمندر کی تہہ میں طیارے کے باقی ماندہ ملبے اور لاپتا عملے کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق سرچ ٹیموں نے گزشتہ چند روز کے دوران سمندر سے طیارے کے مزید ملبے اور کچھ اہم پرزے برآمد کیے ہیں جنہیں تکنیکی تجزیے کے لیے متعلقہ تحقیقاتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تاہم طیارے کا مرکزی ڈھانچہ (فیوزلج)، فلائٹ ریکارڈرز (اگر دستیاب ہوں) اور عملے کے پانچوں لاپتا ارکان تاحال نہیں مل سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گہرے سمندر، تیز لہروں محدود حدِ نگاہ اور سمندری بہاؤ کے باعث سرچ آپریشن انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے تاہم تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے تلاش کا عمل بلا تعطل جاری رکھا گیا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق حادثے کی وجوہات کا تعین برآمد ہونے والے ملبے تکنیکی شواہد اور ایئر ٹریفک کنٹرول سے حاصل ہونے والے ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کے مزید حصے ملنے کے بعد حادثے کی اصل وجہ تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسری جانب حادثے میں لاپتا ہونے والے عملے کے پانچوں ارکان کے اہل خانہ بدستور اپنے پیاروں کی واپسی کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ اہل خانہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک تمام لاپتا افراد اور طیارے کے اہم حصوں کا سراغ نہیں مل جاتا۔
ادھر لاپتا عملے سے اظہارِ یکجہتی اور ان کی سلامتی و مغفرت کی دعا کے لیے مختلف شہروں میں غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی جس میں شہریوں، سول ایوی ایشن سے وابستہ افراد اور متاثرہ خاندانوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے دعا کی کہ اگر عملے کے ارکان جاں بحق ہو چکے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے جبکہ اگر ان کے بارے میں مزید معلومات سامنے آئیں تو جلد از جلد اہل خانہ کو آگاہ کیا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اینڈ ریکوری آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تلاش کے تمام ممکنہ مراحل مکمل نہیں ہو جاتے جبکہ حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تمام شواہد اکٹھے ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔