جنگ بندی کے بعد سستا ہوتا پٹرول پھر مہنگا ہونے کے خدشات، ایران امریکا کشیدگی سے خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے ،ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو ایک بار پھر اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر مسلسل تیسرے روز فضائی حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ روز خام تیل کی قیمت میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوا تھا، جبکہ آج مزید 5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت دن بھر 87.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 12 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتا ہے، جبکہ بعض ماہرین نے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں، ماہرین کے مطابق مہنگے تیل کے باعث پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ امریکا، یورپ اور ایشیا کے مرکزی بینکوں کی شرح سود سے متعلق پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے،رپورٹس کے مطابق امریکا کے ایران پر فضائی حملے تیسرے روز بھی جاری رہے۔
عالمی مارکیٹ میں اس صورتحال نے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس پر پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کی نظریں بھی مرکوز ہیں۔