وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور ملک کو فوری طور پر سپلائی کے حوالے سے کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ بار جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو وزیراعظم نے انہیں معاملہ سنبھالنے کی ذمہ داری دی تھی،انہوں نے بتایا کہ لائسنس کی شرائط کے مطابق ملک میں کم از کم 20 دن کا پیٹرولیم ذخیرہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کا کافی ذخیرہ موجود ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو کوئی بھی نہیں روک سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر عائد لیوی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی کم ہے،ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں، تاہم اگر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنا ہے تو ایندھن کی طلب میں کمی لانا ہوگی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ گزشتہ سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1500 ارب روپے جمع کیے گئے،انہوں نے کہا کہ عالمی حالات اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کسی ایک فرد یا حکومت کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی ریفائنریز میں پانچ سے سات دن کا خام تیل موجود ہے، جبکہ مجموعی پیٹرولیم ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ توانائی کے استعمال میں کفایت اور طلب میں کمی لا کر قیمتوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ حکومت عالمی مارکیٹ کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہی ہے۔