عامر خان کو تیسری شادی کے بعد انتہا پسند ہندو حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا ہے، جبکہ ایک ہندو مذہبی رہنما نے انہیں قتل کرنے والے کے لیے 5 کروڑ بھارتی روپے انعام دینے کا اعلان کر دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایودھیا سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ہندو رہنما جگد گرو پرمھانس اچاریہ نے عامر خان کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص اداکار کو قتل کرے گا، اسے 5 کروڑ روپے انعام دیا جائے گا، جبکہ وہ ایسے شخص کے تمام قانونی اخراجات بھی برداشت کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رہنما نے ہندو فلم بینوں سے اپیل بھی کی کہ وہ عامر خان کی فلموں کا بائیکاٹ کریں۔ اس سے قبل بھی چند انتہا پسند ہندو تنظیموں نے عامر خان کی تیسری شادی پر احتجاج کرتے ہوئے ان پر ہندو خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سے منصوبہ بندی کے تحت شادیاں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ مظاہرین نے اداکار کا پتلا بھی نذر آتش کیا اور ان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔
واضح رہے کہ عامر خان نے حال ہی میں اپنی دیرینہ دوست گوری سپراٹ سے شادی کی ہے۔ شادی کی تقریب 5 جولائی کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں اداکار کی رہائش گاہ پر سادگی سے منعقد ہوئی، جس میں صرف قریبی رشتہ دار اور دوست شریک ہوئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گوری سپراٹ برطانیہ میں مقیم ایک تامل خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے خاندان کی جڑیں عیسائی مذہب سے وابستہ ہیں۔