سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر چودھری گفتار حسین نے کہا ہے کہ حکومت غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرے گی اور کسی بھی پرتشدد گروہ کو عوام کے معمولاتِ زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مظفرآباد میں ترجمان آزاد کشمیر پولیس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چودھری گفتار حسین کا کہنا تھا کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی گزشتہ کئی روز سے عوام کے معمولاتِ زندگی متاثر کرنے میں مصروف ہے اور اپنی تحریک کو عوامی حمایت نہ ملنے کے باعث لوگوں کو مختلف طریقوں سے ورغلانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے نام پر اشتعال انگیزی کی جا رہی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا کر ریاستی اداروں کے خلاف منفی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام میں بے چینی اور بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔
چودھری گفتار حسین کا کہنا تھا کہ کالعدم کمیٹی کی سرگرمیوں کا مقصد ریاست میں امن، معیشت اور استحکام کو نقصان پہنچانا ہے، تاہم حکومت ایسے عناصر کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دے گی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ احتجاجی سرگرمیوں میں خواتین، معصوم بچوں اور طلبہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور نوجوانوں، خصوصاً طلبہ کو زبردستی احتجاجی اور انتشاری سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک عمل ہے۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ طلبہ کو احتجاج کا حصہ بنانا نئی نسل کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے،انہوں نے والدین اور اساتذہ سے بھی اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کو ایسی سرگرمیوں سے دور رکھیں اور انہیں تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کی ترغیب دیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت قانون کی بالادستی، امن و امان کے قیام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔