بھارت کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کڈنکولم سے متعلق ہزاروں مبینہ حساس دستاویزات ایک ڈیٹا لیک کے بعد ڈارک ویب پر منظرعام پر آ گئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر پلانٹ کے بعض حصوں کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات اور دیگر تکنیکی دستاویزات شامل ہیں۔
رائٹرز کے مطابق رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے ڈارک ویب پر تقریباً 19 ہزار حساس فائلیں شائع کی ہیں، جنہیں اس نے ریلائنس گروپ سے حاصل شدہ قرار دیا ہے۔ یہ فائلیں مجموعی طور پر 8 لاکھ 58 ہزار لیک شدہ دستاویزات کا حصہ ہیں۔
کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں واقع ہے اور ملک کے سات جوہری بجلی گھروں میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریلائنس گروپ، جو منصوبے کے کنٹریکٹرز میں شامل ہے، نے رائٹرز کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ تیسرے فریق کے بھارتی ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کنندہ یوٹا کے سرور پر موجود اس کے ڈیٹا میں “جزوی دراندازی” ہوئی ہے۔ کمپنی کے مطابق واقعے سے متعلق حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔
جوہری سلامتی کے ماہر اور نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کے مطابق اس نوعیت کا ڈیٹا لیک پلانٹ کی سلامتی کے لیے “سنگین” خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ بھارت میں بڑھتے ہوئے سائبر حملوں اور اداروں کی محدود سائبر سیکیورٹی استعداد کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریلائنس انفراسٹرکچر نے 2018 میں کڈنکولم پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ زیرِ تعمیر دونوں یونٹس کے 2027 تک فعال ہونے اور مجموعی طور پر 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی توقع ہے۔
رائٹرز کے مطابق ڈارک ویب پر موجود دستاویزات میں جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی نظام سے متعلق معلومات شامل نہیں، کیونکہ وہ روس کی سرکاری کمپنی روس ایٹم فراہم کر رہی ہے۔ تاہم لیک ہونے والی فائلوں میں مبینہ طور پر یونٹ 3 اور 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے نقشے، ایک مشترکہ کنٹرول روم کا فلور پلان، سپلائرز کی فہرست، وینڈرز کی تجاویز، 2024 کے مشترکہ معائنے کا ریکارڈ اور آلات کی تصاویر شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک دستاویز کے مطابق ریلائنس انفراسٹرکچر اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا نے ایسا انشورنس کور حاصل کر رکھا تھا جس کے تحت یونٹ 3 یا 4 پر دہشت گردی کی کارروائی کی صورت میں 112 ملین ڈالر تک کا کلیم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا واقعے کے بعد ریلائنس کے ساتھ رابطے میں ہے جبکہ بھارت کا کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم بھی معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ تاہم ادارے کے چیئرمین، اور بھارتی حکومت کے مرکزی پریس دفتر نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔