محکمہ ریلوے نے جعلی ٹکٹوں کے ذریعے سفر کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، کراچی کینٹ ریزرویشن دفتر میں بروقت کارروائی کے دوران جعلی ٹکٹ مافیا کا ایک نیا طریقہ کار سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ کو بھی حیران کر دیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں ایک مسافر کو جعلی ٹکٹوں کے ذریعے گرین لائن ریل گاڑی میں سفر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا، جس کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ایک مسافر کراچی کینٹ ریزرویشن دفتر پہنچا اور اس نے اپنی دو ٹکٹیں پیش کرتے ہوئے ساتھ والی تیسری نشست کا ٹکٹ طلب کیا۔
دورانِ جانچ پڑتال ریزرویشن عملے کو اس کے پیش کردہ ٹکٹوں میں کئی مشتبہ پہلو نظر آئے، مسافر نے گرین لائن ریل گاڑی کی معیشتی بوگی نمبر دس کا حوالہ دیا، تاہم ریکارڈ کی جانچ کے دوران واضح ہوا کہ گرین لائن ریل گاڑی میں معیشتی بوگی نمبر دس موجود ہی نہیں ہے۔
یہی نہیں بلکہ مزید چھان بین کے دوران انکشاف ہوا کہ پیش کیے گئے ٹکٹوں پر درج سیریل نمبر کسی دوسری ریل گاڑی اور مختلف تاریخوں سے تعلق رکھتے تھے۔
اس سے واضح ہو گیا کہ ٹکٹیں اصلی نہیں بلکہ جعلی طور پر تیار کی گئی تھیں، ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ جعلی ٹکٹ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے ذریعے تیار کی گئی تھیں اور ان کا مقصد نظام کو دھوکہ دے کر بغیر قانونی سفر کے فائدہ اٹھانا تھا۔
محکمہ ریلوے کے مطابق ملزم کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم طریقے سے کام کرنے والے نیٹ ورک کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جس کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ اصل ماسٹر مائنڈ تک پہنچا جا سکے۔
ریلوے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جعلی ٹکٹوں کا استعمال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ادارے کی ساکھ اور مسافروں کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد ریلوے کے مسافروں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نظام کو مزید محفوظ اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔