سوشل میڈیا کی مقبولیت کا سہارا لے کر معصوم شہریوں کو بیرونِ ملک ملازمت اور ویزوں کے نام پر لوٹنے والے مافیا کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک اور بڑی اور کامیابی حاصل کی ہے۔
ایف آئی اے فیصل آباد کے سب آفیسر بشیر خان نے خفیہ معلومات پر ایک ہنگامی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر ذیشان احمد کی سرپرستی میں چلنے والی ایک بڑی غیر قانونی ٹریول ایجنسی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم ذیشان احمد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’ذیشان ٹریول والا‘ کے نام سے باقاعدہ اکاؤنٹس چلا رہا تھا، جہاں وہ اثر و رسوخ اور ویڈیوز کے ذریعے معصوم اور سادہ لوح شہریوں کو جال میں پھنساتا تھا۔
ایف آئی اے کی ٹیم نے ایجنسی کے دفتر پر چھاپہ مار کر موقع سے 5 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے، تاہم مرکزی ملزم ذیشان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
چھاپے کی تفصیلات
ایف آئی اے فیصل آباد سرکل کی جانب سے جاری کردہ آفیشل دستاویزات اور ایف آئی آر کے مطابق چھاپے کے دوران ایجنسی کے ملوث ارکان آصف علی، دلاور، منور، واجد اور دانش احمد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
جعلی ویزا فراڈ کا حجم
ملزم ذیشان احمد نے ایک شہری احسن علی کو بیرونِ ملک ملازمت کا جھانسا دے کر 8 لاکھ روپے (800,000) کے عوض دبئی کا مکمل طور پر بوگس اور جعلی ویزا تھمایا تھا۔
مواد کی برآمدگی
غیر قانونی ٹریول ایجنسی کے قبضے سے تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں مختلف ممالک کے غیر قانونی، بوگس ویزے، پاسپورٹس، جعلی ورک پرمٹس اور دیگر مجرمانہ دستاویزات برآمد کی گئی ہیں۔
قانونی کارروائی
ایف آئی اے فیصل آباد نے انسانی اسمگلنگ، دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کی تیاری کی دفعات کے تحت ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ویزا فراڈ اور ’ڈیجیٹل ٹھگ‘
واضح رہے کہ اس کارروائی کا پس منظر پاکستان میں حالیہ معاشی بحران کے باعث نوجوان طبقے میں بیرونِ ملک (بالخصوص خلیجی ممالک اور یورپ) جانے کی بڑھتی ہوئی شدید خواہش سے جڑا ہوا ہے۔
اس رجحان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی ٹک ٹاکرز اور فیس بک انفلوئنسرز نے باقاعدہ گٹھ جوڑ بنا رکھا ہے۔ یہ لوگ عالیشان دفاتر، گاڑیوں اور ویزوں کے بنڈلز کے ساتھ ٹک ٹاک پر ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں کے بے روزگار نوجوان ان کی چمک دمک دیکھ کر ان پر اندھا اعتماد کر لیں۔
’ذیشان ٹریول والا‘ نے بھی اسی حکمتِ عملی کے تحت احسن علی جیسے متعدد نوجوانوں کو ورک پرمٹ اور دبئی میں سیٹلمنٹ کے خواب دکھائے اور ان سے لاکھوں روپے بٹورے۔ جب یہ نوجوان ایئر پورٹ پہنچتے ہیں یا ویزا چیک کرتے ہیں، تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ زندگی بھر کی جمع پونجی کا فراڈ ہو چکا ہے۔
ایف آئی اے نے ایسے ہی کئی ڈیجیٹل اکاؤنٹس کو مانیٹرنگ پر لگا رکھا تھا، جس کے بعد فیصل آباد میں یہ بڑی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ایجنٹ مافیا کا طریقۂ کار اور ایف آئی اے کا چیلنج
واضح رہے کہ سب آفیسر بشیر خان کی یہ کارروائی فیصل آباد اور گردونواح میں سرگرم انسانی اسمگلرز کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس کیس کے بعد چند اہم پہلو سامنے آئے ہیں
ٹک ٹاک اکاؤنٹس کی ساکھ کا غلط استعمال
ماضی میں ایجنٹ مافیا گلی محلوں میں چھپ کر کام کرتا تھا، لیکن اب انہوں نے اپنا طریقۂ کار تبدیل کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لاکھوں فالوورز اور لائیکس کو یہ لوگ اپنی ‘ساکھ’ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
معصوم شہری یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص سوشل میڈیا پر اتنا مشہور ہے، وہ فراڈ نہیں کر سکتا۔ احسن علی سے 8 لاکھ روپے کا فراڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ مافیا ایک منظم کارپوریٹ انداز میں کام کر رہا ہے۔
ایف آئی اے کو اب سائبر کرائم ونگ کے ساتھ مل کر ایسے تمام مشکوک ویزا ایڈوائزرز کے اکاؤنٹس کو بلاک اور ان کی جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔
مرکزی ملزم کی فراری اور نیٹ ورک کا پھیلاؤ
اگرچہ 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن جب تک ’ذیشان ٹریول والا‘ گرفتار نہیں ہوتا، یہ خطرہ موجود رہے گا کہ وہ کسی دوسرے شہر میں نیا اکاؤنٹ بنا کر دوبارہ یہ دھندا شروع کر دے۔
برآمد ہونے والے غیر قانونی مواد کا حجم ظاہر کرتا ہے کہ احسن علی اکیلا متاثرہ شخص نہیں ہے، بلکہ اس ایجنسی نے درجنوں شہریوں کو کروڑوں روپے کا چونا لگایا ہے۔
عدالتوں کو چاہیے کہ ایسے ملزمان کو ضمانتیں دینے کے بجائے سخت ترین سزائیں دیں تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص سوشل میڈیا کو معصوموں کی جیبیں کاٹنے کے لیے استعمال نہ کر سکے۔