بھارتی خلائی پروگرام سے متعلق نئی تحقیق نے مودی حکومت کے کم لاگت خلائی پروگرام کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یورپی ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق 2025 میں بھارت سے ایک کلوگرام وزن کو زمین کے نچلے مدار، ایل ای او، تک پہنچانے کی تخمینی لاگت 13 ہزار 302 ڈالر رہی، جو بڑی خلائی طاقتوں میں سب سے زیادہ ہے۔
تحقیق کے مطابق اسی عرصے میں امریکا میں یہ لاگت 3 ہزار 225 ڈالر، جاپان میں 5 ہزار 287 ڈالر، چین میں 5 ہزار 809 ڈالر، روس میں 6 ہزار 682 ڈالر جبکہ یورپ میں 9 ہزار 897 ڈالر فی کلوگرام رہی۔ عالمی اوسط 3 ہزار 868 ڈالر فی کلوگرام تھی۔
تحقیق یونیورسٹی آف کیمبرج اور پولی ٹیکنیکو دی ٹورینو کے ماہرین نے کی، جس میں 1960 سے 2025 تک 6 ہزار 740 سے زائد راکٹ لانچز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے اکنامک لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کی نسبتاً زیادہ فی کلوگرام لاگت کی ایک بڑی وجہ اس کے راکٹوں کا نسبتاً کم پے لوڈ ہے۔ راکٹ کی مجموعی لاگت کو کم وزن پر تقسیم کرنے سے فی کلوگرام تخمینی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ 2010 کے بعد امریکا اور یورپ میں لانچنگ کی لاگت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جبکہ بھارت میں ایسی واضح لاگت میں کمی کا رجحان سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق کم لانچ فریکوئنسی بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔
تاہم بھارتی خلائی حکام نے تحقیق کے نتائج پر اعتراض کیا ہے۔ بھارتی محکمہ خلائی امور کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق تحقیق میں حکومتی سبسڈیز، لاجسٹکس، نقل و حمل اور دیگر عوامل سے حاصل ہونے والی بچت کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا، اس لیے اسے حقیقی صارف قیمت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یوں نئی تحقیق نے بھارت کے خلائی پروگرام کی لاگت کے حوالے سے ایک اہم بحث ضرور چھیڑ دی ہے، تاہم 13 ہزار 302 ڈالر فی کلوگرام کا عدد ایک معیاری تحقیقی تخمینہ ہے، نہ کہ آئی ایس آر او کی جانب سے صارفین سے وصول کی جانے والی براہ راست قیمت۔