جہاں آج ریت ہی ریت ہے وہاں کبھی شارکس تیرتی تھیں،حیران کن انکشاف

جہاں آج ریت ہی ریت ہے وہاں کبھی شارکس تیرتی تھیں،حیران کن انکشاف

مصر کے مغربی صحرا سے سائنس دانوں نے شارکس کے قدیم فوسلائزڈ دانت دریافت کیے ہیں، جس نے خطے کے ماضی کے بارے میں حیران کن معلومات سامنے لادی ہیں۔

محققین کے مطابق ابو طرطور سطح مرتفع سے معدوم ہوچکی شارکس کی کم از کم سات مختلف اقسام کے فوسلائزڈ دانت ملے ہیں۔ ماہرین نے اس دریافت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطے کے قدیم ماحول کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرتی ہے۔

شارکس کے دانت دُوی فارمیشن نامی ارضیاتی چٹان کی ایک تہہ سے دریافت ہوئے۔ ابو طرطور سطح مرتفع قاہرہ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور تقریباً 650 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک وسیع و ہموار علاقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسجد کے باہر بھیک مانگنے والی خاتون کے گھر سے لاکھوں روپے برآمد

موجودہ دور میں یہ خطہ انتہائی خشک اور گرم صحرائی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں دن کے وقت درجہ حرارت تقریباً 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ بارش بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

تاہم، قدیم شارکس کے دانتوں کی موجودگی اس بات کے شواہد فراہم کرتی ہے کہ لاکھوں سال قبل موجودہ صحرا کا یہ علاقہ سمندر کا حصہ رہا ہوگا۔ اس دور میں یہاں مختلف اقسام کے سمندری جانداروں پر مشتمل ایک متنوع ماحولیاتی نظام موجود تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شارکس کے فوسل اس خطے کے قدیم جغرافیے، سمندری ماحول اور یہاں موجود حیات کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ دریافت اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ آج کے خشک اور بنجر صحرا اپنے ماضی میں بالکل مختلف ماحول رکھتے تھے اور زمین کی بدلتی ہوئی تاریخ اپنے اندر حیران کن راز چھپائے ہوئے ہے۔

editor

Related Articles