میٹا کا بڑا فیصلہ، کم عمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کا وقت مقرر

میٹا کا بڑا فیصلہ، کم عمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کا وقت مقرر

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے بچوں اور کم عمر صارفین پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے متعلق مقدمات کے خاتمے کے لیے امریکا کی 48 ریاستوں اور 4 امریکی زیر انتظام علاقوں کے ساتھ 18 ارب ڈالر کے تاریخی تصفیے پر اتفاق کرلیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس معاہدے کے بعد میٹا کو فیس بک اور انسٹاگرام پر کم عمر صارفین کے لیے کئی اہم تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جسے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قانونی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ تصفیے کے تحت 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال کی روزانہ حد خودکار طور پر 2 گھنٹے مقرر کی جائے گی۔

معاہدے میں ایک منفرد شرط بھی شامل ہے۔ میٹا فوری طور پر تصفیے کی رقم کا 70 فیصد ادا کرے گی، جبکہ باقی 30 فیصد، تقریباً 5.3 ارب ڈالر، اسی صورت میں ادا کرنا ہوگا جب ٹک ٹاک اور الفابیٹ کی ملکیت یوٹیوب بھی کم عمر صارفین کے لیے روزانہ ایک گھنٹے کی خودکار استعمال کی حد مقرر کرنے پر رضامند ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:آئی فون صارفین کے لیے بڑی خبر، ایپل 9 ستمبر کو کیا نیا لانے والا ہے

اس صورت میں ٹک ٹاک اور یوٹیوب کو بھی ریاستوں کو تقریباً 5.3 ارب ڈالر فی کمپنی ادا کرنا ہوں گے۔امریکی میڈیا کے مطابق تصفیے سے حاصل ہونے والی رقم معاہدے میں شامل ریاستوں اور علاقوں میں آبادی کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی اور 10 سال کے دوران سالانہ اقساط کی صورت میں ادا کی جائے گی۔

معاہدے میں 48 امریکی ریاستوں کے علاوہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا، پورٹو ریکو، امریکن ساموا اور ناردرن ماریانا آئی لینڈز شامل ہیں۔ تاہم نیو میکسیکو اور فلوریڈا اس تصفیے کا حصہ نہیں ہیں۔میٹا کو کم عمر صارفین کے لیے ’نائٹ موڈ‘ بھی متعارف کرانا ہوگا، جس کے تحت رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک فیس بک اور انسٹاگرام خودکار طور پر بلاک رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب کو ٹکر دینے کی تیاری؟ چینی پلیٹ فارم بِلی بِلی کی عالمی مارکیٹ انٹری

اس کے علاوہ ’اسکول موڈ‘ بھی متعارف کرایا جائے گا، جو اسکول کے اوقات، یعنی صبح 8 بجے سے دوپہر 3 بجے تک، نوٹیفکیشنز کو بند رکھے گا۔ ان تمام سیٹنگز میں تبدیلی صرف والدین کی باقاعدہ اجازت کے بعد ممکن ہوگی، جس کا مقصد کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال پر والدین کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

editor

Related Articles