بے حسی کی انتہا ،ساری پی ٹی آئی فرعون صفت نکلی، سہیل آفریدی کے قافلے کی گاڑی نے موٹر سائیکل سوار کو رو ند ڈالا ، رکنا تک گوارا نہیں کیا۔
پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی سرگرمیوں کے لیے خیبر پختونخوا سے سندھ جانے والے قافلے کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کی زد میں آکر ایک کارکن موٹر سائیکل سمیت سڑک پر گر گیا۔ واقعے کے بعد گاڑی کے مبینہ طور پر رکے بغیر آگے بڑھ جانے کی ویڈیو سامنے آنے پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق احتجاجی سرگرمی کے لیے جانے والے قافلے میں شامل گاڑی نے موٹر سائیکل سوار کارکن کو بے دردی سے کچل ڈالا ۔ حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار سڑک پر گر گیا جبکہ قافلے میں شامل گاڑی رکنے کے بجائے آگے بڑھ گئی۔ واقعے کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ اگر قافلے میں شامل کسی گاڑی سے کوئی کارکن یا عام شہری حادثے کا شکار ہوجائے تو اس کی فوری مدد اور خبرگیری کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
واقعے نے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کے دوران کارکنوں کی حفاظت کے انتظامات پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی احتجاج اور ریلیاں کسی بھی جماعت کا جمہوری حق ہوسکتی ہیں تاہم ان سرگرمیوں میں شریک کارکنوں کی جان و مال کا تحفظ بھی سیاسی قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی احتجاجی قافلے کے دوران کارکن ہی حادثات کا شکار ہوتے رہیں تو قیادت کی جانب سے ان کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔ ناقدین کے مطابق احتجاجی سیاست میں جوش اور سیاسی طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اہم انسانی جانوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔
تحریک انصاف کے احتجاجی اجتماعات اور دھرنوں کے دوران ماضی میں بھی کارکنوں کے حادثات کا شکار ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض مواقع پر کارکن قافلوں، بھاری گاڑیوں یا احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پیش آنے والے حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایسے واقعات کے بعد متاثرہ خاندانوں کی مناسب داد رسی، قانونی کارروائی اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔