27 ستمبر سے پہلے سہیل آفریدی کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے؟ بڑی پیش گوئی

27 ستمبر سے پہلے سہیل آفریدی کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے؟ بڑی پیش گوئی

سینئر سیاستدان اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ عین ممکن ہے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل ہی سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے پر نہ رہیں۔

آزاد سیاست پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے انکشاف کیا کہ 9 مئی سمیت متعدد مقدمات کی قانونی کارروائیاں مکمل ہوچکی ہیں اور کسی بھی وقت فیصلے آسکتے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت نے احتجاج کو پیسے کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی جانب سے کچھ عرصے بعد کارکنوں کو احتجاج کی کال دی جاتی ہے اور اسی بہانے اندرون ملک، بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے فنڈ ریزنگ کے نام پر پیسے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی سابق سی ڈی ایس کی پاکستان کو گیدڑ بھبکیاں، دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے انیل چوہان کی تقریر کا پوسٹ مارٹم کر دیا

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ شاندانہ گلزار اور دیگر رہنما ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں کہ فلاں نے اتنے کروڑ روپے کھا لیے اور فلاں نے اتنے کروڑ ہڑپ کرلیے۔ فیاض الحسن چوہان نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور قیدی نمبر 420 کا کلٹ ہر 6 ماہ بعد لانگ مارچ کی شرلی چھوڑ دیتا ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے صوبے خیبرپختونخوا کا بیڑہ غرق کر لیا ہے اور اب ریاست پر حملہ آور ہونے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ریاست دھمکیوں سے زیر نہیں ہوتی، ہمیشہ مذاکرات کرنے پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق قائداعظم اور گاندھی نے بھی مذاکرات کے ذریعے ہی پاکستان اور ہندوستان کو آزاد کرایا تھا۔

سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، مگر حالت یہ ہے کہ کوئی انفراسٹرکچر نہیں، پینے کا صاف پانی نہیں، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور قانون تو ہے ہی نہیں، جبکہ اسٹریٹ کرائمز بھی بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باوجود بات کی جاتی ہے کہ سندھ تقسیم نہیں ہوگا۔

فیاض الحسن چوہان نے قوم پرست جماعتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پنجابیوں کو گالیاں دیں اور ایک اکائی کا دعویٰ کیا، مگر وہ جھوٹا نکلا۔ انہوں نے کہا کہ 300 سال تک گجروں نے کیسے حکومت کی اور پنجاب میں داخل نہیں ہونے دیا، یہ ساری تاریخی تفصیلات بھی بتا رہے ہیں۔

 

Related Articles