مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیپلزپارٹی کی سیاسی پوزیشن کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جماعت اپنی سیاسی حیثیت کھو چکی ہے اور اب اپنی بقا کے لیے صوبوں سے متعلق معاملہ سندھ اسمبلی میں اٹھا رہی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ آصف علی زرداری ان کے لیے قابل احترام شخصیت ہیں، تاہم ان کے مطابق پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت جماعت کو ماضی والا سیاسی مقام واپس دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ انہوں نے موجودہ قیادت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو دوبارہ اپنی سابقہ سیاسی حیثیت دلانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
وفاقی وزیر دفاع نے ملک کے انتظامی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام مفلوج ہو چکا ہے اور ملکی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مربوط بلدیاتی نظام کے ساتھ انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو یہ اصول صرف وفاقی اور صوبائی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ جمہوری نظام کے اثرات نچلی سطح پر بھی دکھائی دینے چاہئیں۔ ان کے مطابق مؤثر بلدیاتی نظام عوام کو مقامی سطح پر فیصلہ سازی اور انتظامی امور میں حقیقی کردار فراہم کرسکتا ہے۔
گفتگو کے دوران وفاقی وزیر دفاع نے پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی طرز عمل پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی گزشتہ دو سے تین برس کے دوران جس انداز میں سیاست کرتی رہی ہے، اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر جس قسم کی زبان استعمال کی جاتی ہے، وہ سب کے سامنے ہے اور موجودہ دور میں ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کرچکی ہے کہ کسی بھی سرگرمی یا مواد کو مکمل طور پر چھپانا ممکن نہیں رہا۔
خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی کے بچوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک بیٹھ کر گفتگو کرنے کے بجائے انہیں پاکستان آکر اپنے والد سے ملاقات کرنی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کو ملاقات سے کسی نے نہیں روکا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے پی ٹی آئی کی قومی معاملات سے متعلق سیاست پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق تحریک انصاف نے گزشتہ عرصے میں کسی بڑے قومی مسئلے پر موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے سنجیدہ انداز میں بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما جب سامنے آتے ہیں تو ان کی گفتگو زیادہ تر بانی پی ٹی آئی کے گرد گھومتی ہے تاہم قومی سیاست میں ملک کو درپیش دیگر اہم مسائل بھی زیر بحث آنے چاہئیں۔