صوبہ خیبر پختونخوا میں بنیادی سہولیات، امن و امان اور معاشی ریلیف سے محروم عوام شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عوامی ٹیکسز کے اربوں روپے پارٹی پروجیکشن اور 27 ستمبر کے سیاسی مارچ کی تشہیر پر نچھاور کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی پر صوبے کے خزانے، اینٹی ٹیرر فنڈز اور ٹیکس ریونیو کو لاہور و کراچی کے سیاسی دوروں پر خرچ کرنے کا الزام سامنے آ گیا ہے جس کی وجہ سے ضم شدہ اضلاع، صحت، تعلیم اور بجلی کا نظام مکمل طور پر ابتری کا شکار ہو چکا ہے۔
صوبائی عوام شکایت کر رہے ہیں خیبر پختونخوا اس وقت شدید انتظامی اور معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ صوبے کے محنت کش اور کاروباری طبقات سے وصول کیے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، وہیکل رجسٹریشن اور پروفیشنل ٹیکسز کا رخ عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے سیاسی مہم جوئی کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
عوام کو صاف پانی، ادویات اور پختہ سڑکیں میسر نہیں، لیکن صوبائی خزانے کا بڑا حصہ وزیراعلیٰ کے لاہور اور کراچی کے دوروں، فلیکسز، سوشل میڈیا مہمات، اور سیاسی جلسوں کی تیاریوں کی نذر ہو رہا ہے۔
دوروں کے اخراجات اور عوامی ٹیکسز کا بے جا استعمال
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کو چھوڑ کر لاہور اور کراچی کے مسلسل دورے کیے جا رہے ہیں۔ ان دوروں پر اٹھنے والے خطیر اخراجات، جن میں وی وی آئی پی پروٹوکول، ہیلی کاپٹر کا استعمال، چارٹرڈ پروازیں اور شاہانہ رہائش کے اخراجات شامل ہیں، سیدھے عام شہروں کے جیب سے دیے گئے ٹیکسز سے ادا کیے جا رہے ہیں۔
عوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک مفلوک الحال صوبے کے وسائل کو دیگر صوبوں میں پارٹی کا بیانیہ فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ 27 ستمبر کے پی ٹی آئی مارچ کی تشہیر کے لیے سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال جاری ہے، جس نے صوبائی محکموں کی توجہ عوامی مسائل سے مکمل طور پر ہٹا دی ہے۔
بدامنی میں اضافہ اور اینٹی ٹیرر فنڈز کا تنازع
صوبے کے مختلف اضلاع بالخصوص جنوبی اضلاع اور ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو جدید حربی سامان اور جدید ترین تکنیکی آلات فراہم کرنے کے لیے وفاق کی جانب سے ملنے والے اینٹی ٹیرر فنڈز کا باقاعدہ اور شفاف استعمال نظر نہیں آ رہا۔
ذرائع کے مطابق یہ اہم ترین سیکیورٹی فنڈز اور صوبائی فنڈز کا ایک بڑا حصہ اندرونی سیاسی تحریک، سیکیورٹی اسکارٹس اور پارٹی مارچ کے انتظامات کی نذر ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے سرحدی اور حساس علاقوں میں عوام سیکیورٹی کے حوالے سے شدید غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
صنعتی جمود، مہنگائی اور نوجوانوں کی مایوسی
خیبر پختونخوا کے صنعتی زونز مثلاً حطار، رشکئی اور گدون میں کارخانوں کی بندش اور نئی صنعتکاری نہ ہونے کے برابر ہے۔
صوبے میں روزگار کے ذرائع سکڑ چکے ہیں اور مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی سے دو وقت کی روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا ہے۔
تعلیم یافتہ اور ڈگری ہولڈر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مستقل روزگار نہ ملنے کی وجہ سے شدید مایوسی اور ذہنی دباؤ میں مبتلا ہے۔
نوجوانوں کو فنی تعلیم، روزگار اور اسکالرشپس دینے کے تمام حکومتی دعوے صرف کاغذات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
دیہی علاقوں میں صحت کا زبوں حال نظام
صوبے کے دور دراز اضلاع جیسے چترال، دیر، اورستان اور وزیرستان کے بنیادی و سیکنڈری اسپتالوں میں ادویات کا سخت قحط ہے۔
اکثر اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی نشستیں خالی پڑی ہیں، جبکہ ایکسرے اور سی ٹی اسکین جیسی جدید مشینیں خرابی کا شکار ہیں۔
معمولی حادثات یا بیماری کی صورت میں مریضوں کو سینکڑوں کلومیٹر دور پشاور منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے راستے میں ہی کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
سابقہ فاٹا (ضم شدہ اضلاع) کے ادھورے وعدے
قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں شامل کرتے وقت 10 سالہ ترقیاتی پیکیج اور اربوں روپے کے فنڈز فراہم کرنے کے جو وعدے کیے گئے تھے، وہ وفا نہ ہو سکے۔
نچلی سطح پر پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور اسکولوں کی تعمیر کا کام ٹھپ پڑا ہے۔ مزید برآں، ان علاقوں میں عدالتوں اور پولیس کے باقاعدہ نظام کی مکمل منتقلی میں انتظامی نااہلی کے باعث شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، جس سے وہاں کے عوام خود کو آج بھی الگ تھلگ تصور کر رہے ہیں۔
سستی بجلی پیدا کرنے والے صوبے میں اندھیروں کا راج
خیبر پختونخوا تربیلا، ورسک اور دیگر ہائیڈل پروجیکٹس کے ذریعے ملک کو سب سے سستی اور وافر بجلی فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، صوبے کے دیہی اور شہری علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کے سنگین مسائل برقرار ہیں۔
کم وولٹیج کی وجہ سے گھروں کی قیمتی الیکٹرانک اشیا جل رہی ہیں اور کاروباری مراکز مفلوج ہو چکے ہیں، مگر صوبائی انتظامیہ اس معاملے پر وفاق سے مؤثر بات چیت کرنے کے بجائے سیاسی بیانات تک محدود ہے۔
خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکمرانی کی ترجیحات میں سنگین بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔
جب کسی بھی ریاست یا صوبے کی قیادت کی اولین ترجیح ’گورننس‘ (طرزِ حکمرانی) کے بجائے ’سیاسی تحرک‘ اور ’پارٹی پروجیکشن‘ بن جائے، تو اس کا براہِ راست اثر معیشت اور امن و امان پر پڑتا ہے۔
عوامی ٹیکسز کا مقصد محض حکومت کا پہیہ چلانا نہیں ہوتا، بلکہ یہ عوام اور ریاست کے درمیان ایک معاشی اور سماجی معاہدہ ہوتا ہے۔
اگر شہری ٹیکس ادا کریں لیکن بدلے میں انہیں اسپتال میں دوا، اسکول میں استاد، سڑک پر سیکیورٹی اور گھر میں بجلی نہ ملے، تو یہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مسمار کر دیتا ہے۔
اینٹی ٹیرر فنڈز اور ترقیاتی رقم کا سیاسی مہم جوئی کی نذر ہونا صوبے کی سیکیورٹی کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر صوبائی حکومت نے فوری طور پر اپنی ترجیحات کو تبدیل نہ کیا اور عوامی ٹیکسز کی رقم کو واپس عوامی فلاح، صنعتی بحالی اور ضم شدہ اضلاع کی ترقی پر نہ لگایا، تو صوبہ مزید گہرے معاشی اور سیکیورٹی بحران کا شکار ہو سکتا ہے جس کا خمیادہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔