پاکستانی ڈرامہ ’درِ نجات‘ ان دنوں ٹیلی ویژن ناظرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ڈرامے میں شہریار منور کے کردار ابو بکر کو پاکستان کے ساتھ بھارت میں بھی خوب پسند کیا جا رہا ہے۔ ان کے پُرسکون مزاج اور نرم رویے نے ناظرین کے دل جیت لیے ہیں۔
ابو بکر کا کردار ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو مشکل حالات میں بھی تحمل اور سکون سے کام لیتا ہے۔ یہی خوبی اسے ڈرامے کے دیگر کرداروں سے منفرد بناتی ہے۔ شہریار منور نے اس کردار کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ مداح اسے ایک مثالی شریکِ حیات کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
ڈرامے کی مقبولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں رہی بلکہ بھارت میں بھی ناظرین اس کردار کو پسند کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مداح ابو بکر کے پُرسکون انداز اور شخصیت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک مداح نے لکھا کہ اس کردار نے ان کے معیار کو غیر معمولی حد تک بلند کردیا ہے، جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنی زندگی میں ابو بکر جیسا شخص چاہتی ہیں۔ بعض مداحوں نے ڈرامے کی اگلی قسط کے لیے بھی بے چینی کا اظہار کیا۔
شہریار منور کی اداکاری نے مداحوں کو متاثر کردیا
ابو بکر کے کردار کی مقبولیت میں شہریار منور کی اداکاری کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے نرم لہجے، پُرسکون رویے اور کردار کی سادگی نے ناظرین کی توجہ حاصل کی ہے۔
’درِ نجات‘ کی یہ مقبولیت ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ ڈراموں میں مضبوط اور پُرسکون شخصیت کے حامل کردار ناظرین پر گہرا اثر چھوڑ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابو بکر نے پاکستانی اور بھارتی مداحوں کے درمیان خاص جگہ بنا لی ہے۔