ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جوہری ہتھیار بنانے اور عالمی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے مطالبات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایرانی سخت گیر حلقے سفارتی مذاکرات کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ سفارتی کوششیں ایران کو بار بار ہونے والے حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس لیے ملک کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
نیا مذہبی حکم جاری کرنے کا امکان
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے کہا ہے کہ نئے رہبرِاعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر نیا مذہبی حکم جاری کر سکتے ہیں۔
حسن قشقاوی کے مطابق انہیں ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ان کا بیان ایران میں جوہری پالیسی اور اس کے مستقبل سے متعلق جاری بحث کی عکاسی کرتا ہے۔
جوہری ہتھیاروں کی حمایت میں اضافہ
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں ایک باخبر شخص کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت پہلے نہ ہونے کے برابر تھی۔ تاہم امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد یہ بڑھ کر 50 فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔
سابق رہبرِاعلیٰ کا مذہبی حکم
ایران کے سابق رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف مذہبی حکم جاری کیا تھا۔ ان کے مؤقف کو ایران کی جوہری پالیسی سے متعلق بحث میں اہمیت حاصل رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کے بیٹے اور موجودہ رہبرِاعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس معاملے پر اپنے والد کے مؤقف کی توثیق نہیں کی۔
جوہری معاہدے سے نکلنے کا مطالبہ
ایران کے بعض حلقے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبرداری کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ان حلقوں کے نزدیک موجودہ حالات میں جوہری ہتھیاروں کے حصول پر غور کرنا ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہوسکتا ہے۔