امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان نیویارک میں اہم ملاقات ہوئی جو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تصدیق کردی ہے۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مختلف معاملات پر مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت میں کئی اہم امور زیر بحث آنے کی اطلاعات ہیں۔
آبنائے ہرمز پر اہم بات چیت
ایرانی وفد کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق شرائط بھی زیر بحث لائی گئیں۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے بعض اہم شرائط پوری کرنا ضروری ہوں گی۔
ایرانی حکام کے مطابق ملاقات امریکی درخواست پر کی گئی۔ اس رابطے کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرائط جاننا بھی تھا۔
سفارتی رابطوں میں تیزی
امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں نیویارک میں ہونے والے سفارتی رابطے کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ملاقات میں خطے کی صورتحال، امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی۔ دونوں فریقوں کے درمیان مزید رابطوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس راستے سے بڑی مقدار میں تیل اور دیگر توانائی کے وسائل عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی پیش رفت کا اثر عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی منڈیوں پر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکا اور ایران کے درمیان اس معاملے پر ہونے والی بات چیت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔