وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی کے تحت مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر آٹوموٹو ڈویلپمنٹ لیوی عائد کرتے ہوئے اگلےسالوں میں 188.58 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے منظور کیے جانے والے مسودہ ’آٹو پالیسی‘ کے مطابق، وفاقی حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں گاڑیوں کے شعبے سے بھاری محصولات اکٹھے کرنے کا پلان تشکیل دیا ہے۔
ریونیو تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران 37.71 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے۔ اس کے بعد مالی سال 2027-28 میں یہ ہدف بڑھ کر 38.46 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت کو بریک لگ گئی، ستمبر میں بڑی کمی ،آٹو مارکیٹ ہل گئی
اسی طرح مالی سال 2028-29 کے دوران 38.29 ارب روپے، مالی سال 2029-30 میں 37.30 ارب روپے اور مالی سال 2030-31 میں 36.83 ارب روپے کی وصولیاں متوقع ہیں۔
ان تمام سالانہ تخمینوں کو ملا کر مجموعی طور پر پانچ سالہ ہدف 188.58 ارب روپے بنتا ہے۔ مقامی سطح پر تیار یا اسمبل ہونے والی گاڑیوں سے حاصل ہونے والی یہ آمدنی پورے عرصے کے دوران مستحکم رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
گاڑیوں کے انجن کی گنجائش کے لحاظ سے لیوی کی شرح
نئی پالیسی میں گاڑیوں کی درجہ بندی ان کے انجن کی گنجائش اور اقسام کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ 1000 سی سی سے کم انجن والی چھوٹی گاڑیوں کو اس لیوی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اور ان پر ریٹ صفر فیصد رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب 1001 سی سی سے لے کر 2000 سی سی تک کی گاڑیوں پر 2 فیصد لیوی عائد کی گئی ہے، جب کہ 2000 سی سی سے زیادہ طاقتور انجن والی لگژری گاڑیوں کے لیے 10 فیصد کی بلند شرح تجویز کی گئی ہے۔
یہ شرحیں درآمدی اور مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی، دونوں طرح کی اندرونی جلن والے انجن (ICE) والی گاڑیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوں گی۔
مستثنیٰ اور خصوصی کیٹیگریز کی گاڑیاں
عام مسافر کاروں کے علاوہ تجارتی اور زرعی گاڑیوں کے لیے بھی الگ ضابطہ کار طے کیا گیا ہے۔ 2 اور 3 پہیوں والی سواریاں جیسے کہ موٹر سائیکلیں اور رکشے، نیز زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے زرعی ٹریکٹرز کو اس لیوی سے بالکل آزاد رکھا گیا ہے۔
اس کے برعکس ٹرکس، ہلکی تجارتی گاڑیاں، بسیں، وینز اور مخصوص پرائم موورز پر 2 فیصد کی شرح سے لیوی وصول کی جائے گی۔ پالیسی دستاویز میں درآمدی گاڑیوں کے لیے الگ سے بھی تخمینے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ محصولات کا شفاف توازن برقرار رکھا جا سکے۔
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری طویل عرصے سے معاشی چیلنجز، شرح سود میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں گراوٹ اور خام مال کی لاگت بڑھنے کے مسائل سے دوچار رہی ہے۔


