پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت کو بریک لگ گئی، ستمبر میں بڑی کمی ،آٹو مارکیٹ ہل گئی

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت کو بریک لگ گئی، ستمبر میں بڑی کمی ،آٹو مارکیٹ ہل گئی

پاکستان میں ستمبر 2026 کے دوران گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں ماہانہ اور سالانہ بنیاد پر کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ستمبر میں مسافر گاڑیوں اور ایک ہزار سی سی سے کم گاڑیوں کی فروخت میں کمی ہوئی، جبکہ لائٹ کمرشل گاڑیوں، ٹرکوں، ٹریکٹرز اور موٹرسائیکلوں کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت ماہانہ بنیاد پر 3 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 12 فیصد کم ہوکر 15 ہزار 104 یونٹس رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق مسافر گاڑیوں کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ستمبر میں فروخت ہونے والی مسافر گاڑیوں کی تعداد 10 ہزار 897 یونٹس رہی۔ اسی طرح ایک ہزار سی سی سے کم گاڑیوں کی فروخت میں بھی 34 فیصد کمی دیکھی گئی، جو چھوٹی گاڑیوں کی مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ بھی  پڑھیں:لاکھوں کے مجمعوں کے دعوے، سہیل آفریدی کے آبائی علاقے میں احتجاج کے لیے کوئی بھی کارکن باہر نہ نکلا

دوسری جانب گاڑیوں کی مختلف اقسام کی فروخت میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ ستمبر کے دوران لائٹ کمرشل گاڑیوں، وینز اور جیپس کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر 126 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹرکوں کی فروخت 7 فیصد، ٹریکٹرز کی فروخت 73 فیصد جبکہ موٹرسائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

گاڑیوں کی فروخت کے ماہانہ اعداد و شمار میں کمی کے برعکس مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی فروخت میں اضافہ سامنے آیا۔ پاما کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 تک گاڑیوں کی مجموعی فروخت سالانہ بنیاد پر 19 فیصد بڑھ کر 50 ہزار 480 یونٹس تک پہنچ گئی۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستمبر کے دوران مجموعی اور مسافر گاڑیوں کی فروخت میں کمی آئی، تاہم مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی فروخت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ مختلف اقسام کی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں فرق بھی سامنے آیا، جہاں بعض شعبوں میں کمی جبکہ کمرشل گاڑیوں، ٹریکٹرز اور موٹرسائیکلوں کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles