نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس، مقدمات کی ای فائلنگ کا آغاز خاندانی مقدمات سے کرنے کا فیصلہ

نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس، مقدمات کی ای فائلنگ کا آغاز خاندانی مقدمات سے کرنے کا فیصلہ

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ملک بھر میں مقدمات کی ای فائلنگ کے نفاذ کی حکمت عملی اور یکساں ڈیجیٹل فائلنگ کے لیے مجوزہ معیاری ٹیمپلیٹس کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں چیئرمین نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی جسٹس محمد علی مظہر، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان نے شرکت کی، جبکہ کمیٹی کے دیگر اراکین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ملک بھر میں مقدمات کی ای فائلنگ کے نفاذ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا، جبکہ یکساں ڈیجیٹل فائلنگ کے لیے مجوزہ معیاری ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کا بھی جائزہ لیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ای فائلنگ کا آغاز صوبوں اور اسلام آباد کی منتخب عدالتوں میں خاندانی مقدمات سے آزمائشی بنیادوں پر کیا جائے گا۔

’’ایک مقدمہ، ایک شناخت‘‘  اقدام پر بریفنگ

اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان نے نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کو ’ایک مقدمہ، ایک شناخت‘  اقدام پر بریفنگ دی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ’ایک مقدمہ، ایک شناخت‘  اقدام کے تحت ہر مقدمے کو عدالتی عمل کے آغاز سے اختتام تک منفرد شناخت دی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق ’ ایک مقدمہ، ایک شناخت‘ اقدام پر متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ ابتدائی مسودہ تفصیلی جائزے اور بہتری کے لیے نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کو فراہم کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت کی جانب سے ٹرمپ کی عائد پابندی ختم، تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس آمد بحال

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے جائزے کے بعد ’ ایک مقدمہ، ایک شناخت‘اقدام کو قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سامنے حتمی غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یکساں ای فائلنگ ٹیمپلیٹ کی تیاری

چیئرمین نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ملک بھر کے لیے صوبائی تفریق کے بغیر ایک جامع اور یکساں ای فائلنگ ٹیمپلیٹ تیار کیا جائے۔

اعلامیے کے مطابق نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے اراکین 2 ہفتوں میں مجوزہ ای فائلنگ ٹیمپلیٹ پر اپنی تجاویز پیش کریں گے۔

جیل خانہ جات سے عدالتی ڈیٹا میں تاخیر پر تشویش

اجلاس میں جیل خانہ جات سے عدالتی ڈیٹا ایک ماہ کی تاخیر سے موصول ہونے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ڈیٹا ایک ماہ تاخیر سے موصول ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا میں ایک ماہ کی تاخیر فوری نگرانی کے مقصد کو متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن کو جیل خانہ جات سے ڈیٹا کی تاخیر کا معاملہ ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی۔

Related Articles