پشاور کی انتظامی تاریخ کے متنازع ترین باب کا بالآ خر اختتام ہو گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے چہیتے اور پارٹی کے “ذاتی ملازم” کے طور پر جانے جانے والے کمشنر پشاور ریاض محسود کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ تقرری اور اس کا پس منظر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کیسے سیاسی ونگ اور سرکاری مشینری کو آپس میں گڈمڈ کر کے من مانی کی گئی۔
اس پورے معاملے کا سب سے حیران کن اور دلچسپ پہلو ریاض محسود کا خاندانی پس منظر اور طاقت کا توازن ہے۔ ایک طرف وہ سرکاری ملازم (بیوروکریٹ) کی حیثیت سے پشاور جیسے حساس اور اہم ترین شہر کے کمشنر کے منصب پر فائز تھے تو دوسری طرف ان کا خاندانی رشتہ براہِ راست اسی سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) سے جڑا ہوا تھا جس کی وہ مبینہ طور پر بطور “ذاتی ملازم” خدمت کر رہے تھے ۔
سابق کمشنر پشاور کے والد پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایوانِ بالا (سینیٹ) کے رکن ہیں جبکہ بھائی تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کے رکن (ایم پی اے) تھے ۔
سابق کمشنر خود سرکاری منصب پر فائز ہونے کے باوجود مبینہ طور پر پارٹی کے مفادات اور احکامات کو فوقیت دیتے رہے۔ایک ہی خاندان کے اندر اقتدار اور سرکاری عہدوں کی یہ اجارہ داری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کس طرح اداروں کو خاندانی اور سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا۔
ریاض محسود کے دورِ کمشنری میں پشاور انتظامیہ پر ہمیشہ سے یہ سوالات اٹھتے رہے کہ وہ عوامی خدمت کے بجائے کسی سیاسی جماعت کے کارکن کی طرح احکامات پر عمل پیرا ہیں۔
جب تک صوبے میں پی ٹی آئی کی مضبوط حکومت تھی ریاض محسود جیسے سیاسی رنگ میں رنگے افسران کے پر کترنا تو دور کی بات ان کے خلاف بات کرنا بھی محال سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جیسے ہی سیاسی منظرنامہ بدلا اور ان کی پشت پناہی کرنے والی سیاسی قیادت کے پاؤں لڑکھڑائے، اس “ذاتی ملازم” کی کرسی بھی تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔
کمشنر پشاور کے عہدے سے ریاض محسود کی برطرفی اس اصول کی یاد دہانی ہے کہ سرکاری عہدے عوام کی امانت ہوتے ہیں نہ کہ کسی سیاسی جماعت کی ذاتی جاگیر یا ملازم کا گھر۔ پشاور کے عوام اور باشعور حلقوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے ۔
دریں اثنا، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں بھی کر دی گئی ہیں۔ پشاور سمیت صوبے کے 6 ڈویژنز کے کمشنرز تبدیل کر دیے گئے ہیں، جبکہ 4 ڈویژنز کے کمشنرز کو عہدوں سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔
اسپیشل سیکرٹری زراعت پرویز خٹک کو کمشنر کوہاٹ، خالد محمود کو کمشنر پشاور اور محمد علی شاہ کو کمشنر مردان تعینات کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے فہیم اللہ کو کمشنر بنوں جبکہ شاہد اللہ کو کمشنر مردان تعینات کیے جانے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔
مزید تقرریوں کے تحت ذوالفقار جواہر کو سیکرٹری اوقاف اور مسکین کو کمشنر ملاکنڈ تعینات کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب کمشنر پشاور ریاض خان محسود اور کمشنر مردان حبیب اللہ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔کمشنر ہزارہ شاہد اللہ کو کمشنر ملاکنڈ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ مسعود احمد کو کمشنر اپر کے عہدے پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔