گیس قلت سے پریشان شہریوں کے لیے بڑی خبر، قطر سے ایل این جی کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

گیس قلت سے پریشان شہریوں کے لیے بڑی خبر، قطر سے ایل این جی کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

پاکستان کو قطر سے اکتوبر کے دوران ایل این جی کا دوسرا کارگو موصول ہوگیا ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق کارگو سے گیس کی فراہمی ملکی نظام میں شروع کردی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے سے بچنے کی کوشش کررہی ہے۔ قطر کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت آنے والی گیس کی قیمت نسبتاً کم ہے۔

قطر سے دوسرا کارگو

وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق اکتوبر میں اب تک قطر سے ایل این جی کے دو کارگو پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ تازہ کارگو موصول ہونے کے بعد اس سے گیس کی فراہمی بھی شروع کردی گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سردیوں میں گیس کی قلت کا خدشہ، حکومت کا 18 ایل این جی کارگوز خریدنے کا فیصلہ

قطر سے طے شدہ معاہدے کے تحت ایل این جی کی درآمد پاکستان کی گیس ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

قیمت میں بڑا فرق

ذرائع وزارت توانائی کے مطابق معاہدے کے تحت قطر سے حاصل ہونے والی ایل این جی کی قیمت تقریباً 14 سے 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ اس کے مقابلے میں اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ جاتی ہے۔

اس طرح قیمتوں کے بیان کردہ اعدادوشمار کے مطابق اسپاٹ مارکیٹ کی ایل این جی قطری معاہدے کے تحت ملنے والی گیس سے تقریباً دوگنا مہنگی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے حکومت کی کوشش ہے کہ ضرورت کے تحت مہنگے اسپاٹ کارگو خریدنے سے گریز کیا جائے۔

درآمدی اخراجات پر توجہ

ایل این جی کی خریداری میں قیمت کا فرق ملکی توانائی اخراجات کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ معاہدے کے تحت نسبتاً کم قیمت پر گیس ملنے سے مہنگے متبادل کارگو پر انحصار کم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان نے ایل این جی کی ہنگامی خریداری کے لیے نیا ٹینڈر جاری کر دیا

تاہم اس کا مجموعی مالی فائدہ درآمدی مقدار، معاہدے کی شرائط اور دیگر متعلقہ اخراجات پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مہنگے اسپاٹ کارگو سے بچنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔

قطر سے اکتوبر میں اب تک دو کارگو موصول ہونے کے بعد توجہ اس بات پر بھی رہے گی کہ ملکی نظام میں گیس کی فراہمی کس حد تک برقرار رہتی ہے۔ موجودہ معلومات کے مطابق تازہ کارگو سے گیس کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔

editor

Related Articles