ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو جارحیت ختم کرنے کی حقیقی خواہش کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکی حکومت کے امن کے دعو ئوں پر اعتماد نہیں ہے۔
انہوں نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات، علاقائی کشیدگی اور ممکنہ معاہدے پر اپنا مؤقف پیش کیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس میں آگے بڑھنے کا راستہ اسی وقت نکل سکتا ہے جب امریکی حکومت حقیقتاً تسلیم کرے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ منصفانہ اور باعزت سمجھوتہ چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں میں بھی ایران کا یہی پیغام رہا۔
مذاکرات پر عدم اعتماد
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی حکومت کے امن کے خلوص پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکا نے ایران پر بمباری کی۔
عراقچی کے مطابق سمجھوتے پر دستخط کے بعد بھی ایران پر تیسری مرتبہ حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے باعث ایران کو امریکی حکومت کے امن کے دعووں پر اعتبار نہیں رہا۔
پُرامن تصفیے کی پیشکش
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پُرامن تصفیے کے لیے تیار ہے تاہم امریکا کو اپنی جارحانہ کارروائیاں ختم کرنے کی حقیقی خواہش ظاہر کرنا ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران منصفانہ اور باعزت معاہدے کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی پیش رفت کے لیے فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔