لاہور میں فراڈ کا مبینہ نیٹ ورک بے نقاب، 3 کال سینٹرز سے 59 افراد  گرفتار

لاہور میں فراڈ کا مبینہ نیٹ ورک بے نقاب، 3 کال سینٹرز سے 59 افراد  گرفتار

لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے تین جعلی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 59 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد پر غیرملکی شہریوں کو مختلف طریقوں سے دھوکا دینے اور رقم ہتھیانے کے الزامات ہیں۔

این سی سی آئی اے لاہور زون نے گلبرگ میں یہ کارروائی کی۔ ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان میں 52 مرد اور 7 خواتین شامل ہیں۔ چھاپوں کے دوران 61 لیپ ٹاپس، 21 کمپیوٹر سسٹمز اور 52 موبائل فونز بھی برآمد کیے گئے۔

تین کال سینٹرز پر چھاپے

این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران تین ایسے کال سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا جہاں مبینہ طور پر غیرملکی شہریوں کے ساتھ فراڈ کیا جاتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان مختلف ترغیبات اور جعلی پیشکشوں کے ذریعے لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا: کالام گبرال پن بجلی منصوبہ 36 ارب سے 84 ارب تک کیسے پہنچا ؟

ترجمان کے مطابق ملزمان غیرملکی شہریوں کو موبائل فون اپ گریڈ کرنے اور سستے پیکجز کی پیشکش کا جھانسہ دیتے تھے۔ ان طریقوں کے ذریعے شہریوں سے رقم حاصل کی جاتی تھی۔

جعلی ایپ سے بھی فراڈ

این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان پر جعلی ایپ میں رجسٹرڈ ریسٹورنٹس کا ڈیٹا ہیک کرنے کا بھی الزام ہے۔  اس طریقے سے ہفتہ وار ادائیگیاں اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی تھیں۔

ترجمان نے بتایا کہ مبینہ طور پر حاصل کی گئی رقم کو ٹریڈنگ اور منی ٹرانسفر ایپس کے ذریعے منتقل کیا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق ان سرگرمیوں سے پاکستان کی ڈیجیٹل ساکھ کو نقصان پہنچا۔

برآمد ہونے والے ڈیجیٹل آلات کو مبینہ سرگرمیوں کی مزید تحقیقات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ملزمان کے خلاف درج مقدمات، مبینہ متاثرین کی تعداد اور فراڈ کی مجموعی رقم کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

سائبر فراڈ کے خلاف کارروائیاں جاری

ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سائبر فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :اسلام آباد کے اہم تجارتی سنٹر میں آتشزدگی ،ایک زخمی، انتظامیہ کی دوڑیں لگیں

حالیہ کارروائی میں 59 افراد کی گرفتاری اور بڑی تعداد میں ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم ملزمان پر عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین قانونی کارروائی اور شواہد کی جانچ کے بعد ہوگا۔

سائبر فراڈ کے ایسے واقعات میں شہریوں کو جعلی پیشکشوں، غیرمصدقہ کالز اور مشکوک ڈیجیٹل ایپس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی غیرمعمولی ادائیگی یا ذاتی معلومات کی درخواست کی تصدیق متعلقہ ادارے سے کرنا اہم ہے۔

editor

Related Articles