جنگ کے خاتمے و آبنائے ہرمز کھولنے کا 7 روزہ پلان امریکا کو پیش کر دیا، عباس عراقچی

جنگ کے خاتمے و آبنائے ہرمز کھولنے کا 7 روزہ پلان امریکا کو پیش کر دیا، عباس عراقچی

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کو جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کھولنے اور ایٹمی پروگرام پر جامع مذاکرات کے لیے 7 روزہ پلان پیش کر دیا۔

 امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تجاویز امریکا اور ایران کے درمیان دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) سے مماثلت رکھتی ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کی آمادگی کی صورت میں ایران تجاویز پر فوری عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق تجاویز امریکا کو ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی ہیں، جن پر اتفاق ہونے کی صورت میں 7 روز میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔

جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات میں کیا کہا؟

اس سے قبل جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈفول کے ساتھ ملاقات میں عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے سفارت کاری کو آگے بڑھانے کیلئے اپنی شرائط امریکی فریق تک پہنچا دی ہیں۔

 انہوں نے زور دیا کہ خطے میں سلامتی کی بحالی کیلئے امریکا کو ایران کے خلاف مداخلت پسندانہ اقدامات روکنے ہوں گے ، عراقچی نے یورپی ممالک بشمول جرمنی پر بھی تنقید کی کہ وہ امریکی اقدامات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : دباؤ کے باوجود عوام ساتھ ہے، ایران کو تباہ کرنے سے متعلق امریکی صدر کے بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں، مسعود پزشکیان

دوسری جانب امریکا اور ایران کے وفود کی ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوششیں، جنگ ختم کرنے کے لیے مرحلہ وار طریقہ اپنانے پر مذاکرات کیے۔

رائٹرز خبر ایجنسی کے مطابق ڈیل کے تحت ایران آبنائے ہرمز کھولے گا اور امریکا کی جانب سے ایران کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کی جائے گی ، امریکا کے سابق مذاکرات کار ڈینس راس کا کہنا ہے کہ مڈٹرم الیکشنز سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہونے کا امکان تیس فیصد ہے۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیانات میں ایک طرف معاہدے کے امکان کا ذکر کیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی بات کی ہے۔

editor

Related Articles