خیبرپختونخوا: کالام گبرال پن بجلی منصوبہ 36 ارب سے 84 ارب تک کیسے پہنچا ؟

خیبرپختونخوا: کالام گبرال پن بجلی منصوبہ 36 ارب سے 84 ارب تک کیسے پہنچا ؟

خیبر پختونخوا حکومت کا عالمی بینک سے لیے گئے قرض پر کالام گبرال پن بجلی منصوبہ صوبائی حکومت کے لیے سفید ہاتھی بن گیا ہے۔ چھتیس ارب کا منصوبہ 84 ارب تک پہنچ گیا جبکہ کام میں تاخیر کے باعث صوبائی حکومت ورلڈ بینک کو اضافی 40 لاکھ ڈالر ادا کرنے کی بھی پابند ہے۔ اس کے ساتھ نظر ثانی شدہ پی سی ون کی پروانشل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی ( پی ڈی ڈبلیو پی ) اور ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک ) سے منظوری لیے بغیر ہی 53 ارب 98 کروڑ پر سِول ورکس کا ٹھیکہ بھی دے دیا۔

آزاد ڈیجیٹل کے پاس موجود ریکارڈ کے تحت خیبر پختونخوا حکومت نے کالام گبرال ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے اکتوبر 2020ء میں ورلڈ بینک سے 25 سال کے لیے 220 ملین ڈالر کا قرض لیا۔ اُس وقت منصوبے کی مجموعی لاگت 36 ارب 43 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی اور 88 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے اس منصوبے کو نومبر 2027ء تک مکمل ہونا تھا۔ منصوبے کے لیے عالمی بینک کا قرض طویل مدتی بنیادوں پر یعنی کے 25 سال کے لیے لیا گیا تھا۔ تاہم تعمیراتی کام میں تاخیر کے باعث قرض کی غیر استعمال شدہ رقم پر کمٹمنٹ چارجز کا مالی بوجھ بھی صوبائی حکومت پر پڑتا رہا۔ عالمی بینک کے مطابق ایسے چارجز عموماً غیر استعمال شدہ قرض پر عائد ہوتے ہیں۔

36 ارب کا منصوبہ 84 ارب تک کیسے پہنچا؟

ابتدائی طور پر منصوبے کی لاگت 36 ارب 43 کروڑ روپے تھی، لیکن ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد پیداواری صلاحیت 88 میگاواٹ سے بڑھا کر 94.5 میگاواٹ کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ تعمیراتی لاگت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا اور محکمانہ ذرائع کے مطابق نظرثانی شدہ پی سی ون میں منصوبے کی مجموعی لاگت 84 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

صرف سِول ورکس کی لاگت، جو ابتدائی طور پر تقریباً 18 ارب روپے رکھی گئی تھی، اب 53 ارب 98 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔

53 ارب 98 کروڑ کا ٹھیکہ، مگر منظوریوں پر سوال

تازہ ترین پیش رفت کے مطابق سِول ورکس کا ٹھیکہ جی آر سی اور ترکی کی فرم ایج جن کا جوائنٹ وینچر ہے کو 53 ارب 98 کروڑ روپے میں دے کر انہوں نے کام شروع بھی کر دیا۔ تاہم اس پیش رفت نے ایک نیا قانونی اور انتظامی سوال پیدا کر دیا ہے کہ متعلقہ فورمز، پروانشل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی)، سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) اور ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) سے منظوری نہیں لی گئی ہے۔ جب کوئی منصوبہ 10 ارب سے بڑھ جاتا ہے تو اس کی منظوری ایکنک سے لینا ضروری ہوتا ہے لیکن پی ڈی ڈبلیو پی، سی ڈی ڈبلیو پی کو سفارش کرے گی اور پھر وہ ایکنک میں پیش کرے گی۔

اس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سید آصف کمال کے مطابق ورلڈ بینک گائیڈ لائنز کے مطابق ٹھیکہ ایوارڈ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 42 دنوں کے اندر کام شروع کرنے کا حکمنامہ بھی ٹھکیدار کو دینا ضروری ہوتا ہے لیکن وہ بھی نہیں دیا گیا ہے جبکہ کنٹریکٹر کے ساتھ معاہدہ جون میں ہوا ہے اور 3 اگست تک انہیں آرڈر جاری نہیں ہوا ۔ تاہم پراجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق فرم سے معاہدے پر دستخط ہو گیا ہے لیکن انہوں نے مزید وضاحت نہیں کی۔

اصل منصوبہ 36.43 ارب روپے کی لاگت کا ایکنک سے منظور ہوا تھا۔ ایکنک نے 2020 میں 88 میگاواٹ کالام گبرال منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے لاگت کو نیپرا کے لاگت کے ڈھانچے کے مطابق رکھنے اور بجلی کے ٹیرف کو کم سے کم رکھنے کے لیے مالیاتی مشیروں کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

اب اگر منصوبے کی مجموعی لاگت 84 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے اور صرف سِول ورکس کا ٹھیکہ 53 ارب 98 کروڑ روپے میں دیا گیا ہے تو بنیادی سوال یہ ہے کہ اصل منظور شدہ پی سی ون میں اتنے بڑے اضافے کی باقاعدہ منظوری کس فورم نے دی؟ اگر نظرثانی شدہ پی سی ون ابھی منظوری کے مراحل میں ہے تو اس سے پہلے اتنی بڑی مالیت کا ٹھیکہ دینا قواعد کے تحت درست نہیں ہے۔

کمٹمنٹ چارجز؟

منصوبے میں تاخیر کے باعث عالمی بینک کے کمٹمنٹ چارجز کا معاملہ بھی سنگین ہو چکا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق پورے منصوبے کی تاخیر کا 40 لاکھ امریکن ڈالر کمٹمنٹ چارجز کی مد میں صوبائی حکومت کو ادا کرنے ہوں گے۔
یعنی منصوبے میں تاخیر صرف تعمیراتی نقصان نہیں بلکہ صوبائی حکومت کے لیے براہ راست مالی بوجھ بھی بن رہا ہے ۔

ٹینڈرنگ میں مسلسل ناکامیاں

منصوبے کے سِول ورکس کے لیے 2022ء میں پہلا ٹینڈر جاری کیا گیا، لیکن کسی کمپنی نے بولی جمع نہیں کرائی۔ اس کے بعد اکتوبر 2023 میں دوبارہ ٹینڈر کیا گیا جس میں صرف دو گروپس نے حصہ لیا۔ ایک مشترکہ منصوبے نے تقریباً 39 ارب روپے جبکہ دوسرے گروپ نے 65 ارب روپے کی بولی دی۔

کم ترین بولی دینے والی کمپنی مطلوبہ پرفارمنس گارنٹی جمع نہ کرا سکی جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ بعد ازاں دوسری کمپنی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قیمت کم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اب سول ورکس کا ٹھیکہ 53 ارب 98 کروڑ روپے میں دے دیا گیا ہے۔

بجلی کی قیمت: 8 روپے سے 19 روپے فی واٹ تک؟
منصوبے کی معاشی افادیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ فزیبلٹی کے مرحلے پر بجلی کی فی واٹ قیمت 8 روپے کے حساب سے دیکھی گئی تھی، جبکہ تعمیراتی لاگت میں اضافے کے بعد موجودہ تخمینوں کے مطابق فی واٹ لاگت 19 روپے تک پہنچ گیا۔

منصوبے کی پیداواری صلاحیت 88 میگاواٹ سے بڑھا کر 94.5 میگاواٹ کر دی گئی، لیکن اس اضافی بجلی کے اخراج اور خریداری کا معاملہ بھی اہم ہے۔ وفاقی حکومت کا بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ (آئی جی سی ای پی) بجلی کی پیداوار کے مستقبل کے منصوبوں کے لیے بنیادی منصوبہ بندی کا فریم ورک ہے۔

سن2025 ء میں خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق سے شکایت کی تھی کہ کالام گبرال پن بجلی منصوبوں کو 2025سے 35 کے مسودے سے خارج کر دیا گیا، حالانکہ صوبائی حکومت کے مطابق منصوبہ پہلے سے منظور شدہ اور طے شدہ تھا۔ وفاقی حکومت کے ساتھ اس معاملے پر تنازع اب بھی منصوبے کی مستقبل کی بجلی خریداری اور گرڈ انضمام کے حوالے سے ایک اہم سوال ہے۔

سید آصف کمال کے مطابق اس کو دوبارہ شامل کر دیا جائے گا اور وفاقی حکومت ہی بجلی خریدے گی۔

منصوبے کے تین پیکجز اور موجودہ صورتحال:

کالام گبرال منصوبہ بنیادی طور پر تین بڑے پیکجز پر مشتمل ہے۔ پہلا اور سب سے بڑا پیکج سِول ورکس کا ہے، جس میں ڈیم، سرنگیں، سڑکیں، پُل اور دیگر بنیادی تعمیرات شامل ہیں۔

دوسرا پیکج الیکٹرو مکینیکل ورکس کا ہے جس کے لیے غیر ملکی کمپنیوں نے مالی بولیاں جمع کرائی تھیں۔
تیسرا پیکج رہائشی کالونی اور متعلقہ تعمیرات کا ہے جس کا تقریباً 1.6 ارب روپے کا ٹھیکہ پہلے ہی دیا جا چکا ہے اور اس پر کام بھی جاری رہا ہے۔

منصوبے کی نگرانی اور انتظامی بحران

خیبر پختونخوا ہائیڈرو رینیوبل انرجی پروگرام کے تحت منصوبے کی نگرانی کے لیے پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ ارگنائزیشن (پیڈو) کے زیر انتظام پراجیکٹ مینجمنٹ آفس قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کی ذمہ داریوں میں منصوبے کی تیاری، بین الاقوامی مشیروں کی خدمات، فزیبلٹی اور ڈیزائن، ٹینڈرنگ اور بین الاقوامی کمپنیوں کو راغب کرنا شامل تھا۔
تاہم منصوبے کی ابتدائی ٹینڈرنگ میں کسی کمپنی کی شرکت نہ ہونا، بعد میں صرف دو کمپنیوں کا بولی دینا، لاگت میں غیر معمولی اضافہ اور بار بار تاخیر نے پی ایم او کی کارکردگی پر خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
مزید یہ کہ پروگرام کے سربراہ چیف انجینئر کے 2023ء میں استعفے کے بعد ادارہ جاتی تسلسل اور منصوبے کی قیادت بھی سوالات کی زد میں آئی۔ سن 2020ء میں سی ڈی ڈبلیو پی کی سطح پر بھی منصوبے کی قیادت کے لیے پن بجلی منصوبوں کا عملی تجربہ رکھنے والے ماہرین کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

منصوبے کی اصل تکمیل کی آخری تاریخ نومبر 2027ء مقرر کی گئی تھی لیکن تاخیر کے باعث اب منصوبے کے 2029 یا 2030 سے پہلے مکمل ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

contributor

Related Articles