(حسام الدین)
خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبے بھر میں حالیہ بارشوں کے پیش نظرسیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کردی ہے جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو سیاحوں کو فوری طورپر ریسکیو کرنے جبکہ علاوہ متاثرہ علاقوں میں جانی و مالی نقصان کا ازالہ کرنے اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ منگل کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں مانسہرہ سے حکومتی رکن منیر حسین نے قرارداد پیش کی۔
صوبائی اسمبلی سے سوال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی نے کہا کہ محکمہ وائلڈلائف کے مطابق صوبے کو 2019 میں 6 ہزار 482 چھوٹے مختلف شوٹنگ گیمز کے لائسنسیز کی اجرا کی مد میں ایک کروڑ 29 لاکھ 64 ہزار روپے ملے جبکہ 2019 میں شوٹنگ کے بڑے شکار کے لائسنسیز کی مد میں ایک لاکھ 87 ہزار آمدن ہوئی، سمال شوٹنگ کے لیے 6 ہزار 482 اور بڑے شوٹنگ کے لیے 11 لائسنس ایشو ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور خود بھی شکاری ہیں حکومت شکار کے حوالے سے پالیسی بنائے جس کی وجہ سے صوبے کو کافی آمدن مل سکتی ہے جس پر وزیر قانون آفتاب عالم نےجواب دیا کہ وزیراعلی شکاری ہیں وہ خود اس کا جائزہ لیں گے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس میں مسنگ پرسنز کے ایشو پر بحث کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی ہمایوں خان نے کہا کہ انکا بھائی دسمبر 2009 سے پندرہ سال ہوگئے لاپتہ ہے، پتہ نہیں زندہ ہے یا مرگیا ہے، خاندان اور گھر والے ذہنی کوفت سے گزررہے ہیں، صوبائی اسمبلی نے قبائلی ضلع خیبر میں کان کنی کے لئے بلاسٹنگ لائسنس جاری کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد حکومتی رکن عبدالغنی نے پیش کی، ضلع خیبر میں کوئلہ کرومائٹ اور کاپر سمیت دیگر معدنیات موجود ہیں، ضلعی انتظامیہ نے بلاسٹنگ لائسنس کا اجراء بند کیا ہے۔ قرارداد میں کان کنی کےلئے بلاسٹنگ میٹریل کے استعمال کی اجازت کا مطالبہ کیا گیا، ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی نے خیبر پختونخوا میں بھٹوں کی تعداد اور مزدوروں سے متعلق تفصیلات طلب کیں جس پر اسپیکربابر سلیم سواتی نے صوبائی وزیر کو ٹائم فریم دینے کا حکم دیا جس پر صوبائی وزیر محنت فضل شکور نے کہا کہ رواں سال بھٹوں کی تعداد جمع کرینگے۔ جمیعت علمااسلام کی رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ بھٹہ خشت ایسوسی ایشن کے مطابق 1 ہزار 54 بھٹہ خشت ہے، بھٹہ خشت میں تقریبا 67 ہزار 480 مزدور ہے، بھٹہ خشت میں بچے مزدوری کرتے ہیں جنکا اندراج نہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل اور خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز ترمیمی بل پاس کر دیا گیا، ترمیمی بل میں معدنیات کی رائلٹی ریٹس میں رود وبدل کیے گئے، خیبر پختونخوا اسمبلی نے ضلع خیبر میں معدنیات کان کنی کے بلاسٹُنگ لائسنس لیز مالکان کو جاری کرنے کی قرارداد بھی پاس کر دی گئی۔
خیبر پختو نخوا اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل مجریہ 2024 ، خیبر پختونخوا مائز اینڈ منرل بل2024 اور خیبر پختونخوا فنانس ترمیمی بل 2024 سمیت تین بلوں کی منظوری دیدی۔ اسمبلی میں مائن اینڈ منرل بل پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بحث ہوئی اپوزیشن کی اکثر ترمیمی پر سپیکر کو ووٹنگ کرنا پڑی حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا خیبر پختونخو فنانس ترمیمی بل مجریہ 2024 صوبائی وزیرقانون آفتاب عالم نے پیش کیا جس کے تحت صوبے میں تمباکو سیس کی مختلف قیمتوں کو ری شیڈول کیا جاسکے جس تحت تمباکو سیس بڑھنے کاامکان ہے ۔نئے شیڈول کے تحت ورجینا تمبا کو کی ٹرانسپورٹیشن پر پچاس روپے فی کلو ٹیکس وصول ہو گا اسطرح پتہ،روستیکا، خاکا،خٹرا اور ڈنڈی و سٹیم تمباکو پر 30 روپے فی کلو گرام جبکہ نسوار تمباکو پر ساڑھے ساتھ روپے روپے فی کلو سیس وصول ہو گا ۔
خیبر پختونخوا مائن اینڈ منرل بل صوبائی وزیر قانون نے ایوان میں پیش کیا جس کے تحت صوبے میں پیدا ہونے والی معادنیات کے رائیلٹی ریٹ کو ری وائز کیا جاسکے گا۔ مذکورہ معدنیات کے نرخ بل میں شامل کر لئے گئے جس کے تحت دھاتی معدنیات کے لئے 500 روپے فی ٹن تا 800 روپے، مائع معدنیات کے لئے 500 روپے فی ٹن جبکہ قیمتی معدنیات(پتھر) کے لئے50 روپے فی کلو رائیلٹی نرخ مقرر کئے گئے ہیں ۔ ایوان نے تینوں بل ترامیم سمیت پاس کر دیئے گئے۔

