کراچی میں فیس لیس ای ٹکٹنگ نظام کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور نامکمل ریکارڈ رکھنے والی گاڑیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق شہر بھر میں تقریباً 40 ہزار گاڑیوں کو بلیک لسٹ قرار دیا گیا ہے، جبکہ یکم جولائی سے ان کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ تاریخ سے قبل اپنے تمام واجبات اور دستاویزات درست کروا لیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹریفک پولیس کراچی اور محکمہ ایکسائز کے مشترکہ فیصلے کے تحت ان گاڑیوں کو بھی بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جن کی ملکیت منتقل نہیں کرائی گئی یا جن کا ریکارڈ نامکمل ہے۔ اسی طرح غلط پتے، نامکمل کوائف یا سرکاری ریکارڈ میں تضادات رکھنے والی گاڑیاں بھی کارروائی کی زد میں آئیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ فیس لیس ای ٹکٹنگ نظام کے تحت جاری کیے گئے جرمانوں اور دیگر سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی بھی بلیک لسٹ کیے جانے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ ایسے مالکان کو فوری طور پر اپنے بقایا جات جمع کرانے اور ریکارڈ کی درستگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ یکم جولائی کے بعد بلیک لسٹ گاڑیوں کو ضبط یا سرکاری تحویل میں لینے سمیت مختلف قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سندھ پولیس کے ٹریکس پورٹل پر بلیک لسٹ گاڑیوں کی فہرست بھی دستیاب کر دی گئی ہے جہاں شہری گاڑی نمبر یا شناختی کارڈ نمبر درج کرکے اپنی گاڑی کی موجودہ حیثیت معلوم کر سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر ملکیت کی منتقلی، ریکارڈ کی تصحیح اور واجبات کی ادائیگی مکمل کریں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق بلیک لسٹ گاڑیوں کے مالکان کو جرمانوں، قانونی نوٹسز اور دیگر انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے بروقت اقدامات کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کارروائی سے بچا جا سکے۔