پاکستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ 2026-27 کے حوالے سے ابتدائی بحث جاری ہے، جس میں آٹوموبائل سیکٹر پر نئی ٹیکس پالیسیوں کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ان مجوزہ اقدامات نے پہلے ہی سے مہنگائی اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مارکیٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
مجوزہ تجاویز میں سب سے اہم اقدام پٹرول پر چلنے والی گاڑیوں پر کلائمٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق 1300 سی سی تک کی پٹرول گاڑیوں پر لیوی 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر اس تجویز کی منظوری دی جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر چھوٹی گاڑیوں کی ایکس فیکٹری قیمتوں پر پڑے گا۔
یہ اقدام حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فوسل فیول پر انحصار کم کرنا اور ہائبرڈ و الیکٹرک گاڑیوں کی طرف بتدریج منتقلی کو فروغ دینا ہے۔ تاہم فوری طور پر اس کا اثر عام خریداروں کے لیے گاڑیوں کی مزید عدم استطاعت کی صورت میں سامنے آنے کا خدشہ ہے۔
سوزوکی کی گاڑیوں خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے ماڈلز پر اس تبدیلی کے اثرات پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر مجوزہ لیوی نافذ ہو جاتی ہے تو قیمتوں میں ممکنہ تبدیلیاں کچھ اس طرح ہوں گی:
سوزوکی آلٹو میں وی ایکس آر کی موجودہ قیمت 2,994,861 سے بڑھ کر 3,084,707 ہو سکتی ہے۔ وی ایکس آر-اے جی ایس 3,166,480 سے بڑھ کر 3,261,474 جبکہ وی ایکس ایل-اے جی ایس 3,326,446 سے بڑھ کر 3,426,240 تک جا سکتی ہے۔
سوزوکی کلٹس میں وی ایکس آر کی قیمت 4,089,490 سے بڑھ کر 4,212,175، وی ایکس ایل 4,359,160 سے بڑھ کر 4,489,935 جبکہ وی ایکس ایل-اے جی ایس 4,591,460 سے بڑھ کر 4,729,204 ہونے کا امکان ہے۔
سوزوکی سوئفٹ کے جی ایل ماڈل کی قیمت 4,460,160 سے بڑھ کر 4,593,965 ہو سکتی ہے۔ جی ایل (سی وی ٹی) 4,605,600 سے بڑھ کر 4,743,768، جبکہ جی ایل ایکس (سی وی ٹی) 4,766,190 سے بڑھ کر 4,909,176 تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح جی ایل ایکس (سی وی ٹی) ٹو ٹون کی قیمت بھی 4,766,190 سے بڑھ کر 4,909,176 ہونے کا امکان ہے۔
اگرچہ یہ اضافہ فیصد کے لحاظ سے زیادہ نہیں لگتا، لیکن ماہرین کے مطابق پاکستان کی چھوٹی گاڑیوں کی مارکیٹ میں معمولی اضافہ بھی خریداروں پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔ زیادہ تر خریدار قسطوں، فنانسنگ اور طویل بکنگ سسٹم پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث معمولی قیمت تبدیلی بھی ان کی استطاعت کو متاثر کرتی ہے۔
اگر یہ مجوزہ ٹیکس نافذ ہو جاتا ہے تو سوزوکی آلٹو جیسی انٹری لیول گاڑیاں پہلے سے زیادہ عام خریدار کی پہنچ سے باہر ہو سکتی ہیں، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر مزید بوجھ بڑھنے کا امکان ہے۔