سندھ کے شہر روہڑی میں درگاہ بال مبارک کے قریب دریائے سندھ کے مقام پر ایک انتہائی افسوسناک اور دلدوز حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ایک ہی گھر کے 3 معصوم بچے دریا میں نہاتے ہوئے پانی کے تیز بہاؤ اور گہرائی کا اندازہ نہ ہونے کے باعث ڈوب گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ بچے جون کی شدید اور جھلسا دینے والی گرمی سے بچنے اور نہانے کے لیے دریا پر گئے تھے، لیکن اچانک گہرے پانی کی زد میں آکر زندگی کی بازی ہار گئے۔
ریسکیو آپریشن اور لاش کی برآمدگی
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور مقامی غوطہ خور فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔
اب تک کی عینی شاہدین اور ریسکیو اداروں کی ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک 5 سالہ معصوم بچے کی لاش کو دریا سے نکال لیا گیا ہے، جبکہ باقی 2 بچوں، جن میں ایک سگی بہن اور ایک بھائی شامل ہے، کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔
پورے علاقے میں سوگ کی فضا
مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈوبنے والے یہ تینوں معصوم بچے آپس میں سگے بہن بھائی ہیں، جس کے باعث پورے روہڑی شہر اور بالخصوص متاثرہ علاقے میں کہرام مچ گیا ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔
اس ہولناک واقعے کے بعد معصوم بچوں کے والدین اور اہل خانہ شدید صدمے کی حالت میں ہیں، جبکہ جائے وقوعہ پر اہل علاقہ کی ایک بہت بڑی تعداد جمع ہو چکی ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت بھی لاپتا بچوں کی تلاش میں غوطہ خوروں کی مدد کر رہے ہیں۔
سندھ میں گرمی کی لہر اور دریاؤں میں بڑھتے ہوئے حادثات
صوبہ سندھ بالخصوص سکھر اور روہڑی کے اضلاع میں مئی اور جون کے مہینوں میں شدید ترین ہیٹ ویو کا راج رہتا ہے، جہاں درجہ حرارت اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔
ان علاقوں میں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور خاص طور پر بچوں کے پاس گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کوئی متبادل انڈور تفریحی ذرائع موجود نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے وہ دریائے سندھ اور اس سے نکلنے والی نہروں کا رخ کرتے ہیں۔
درگاہ بال مبارک کے قریب دریائے سندھ کا یہ حصہ اپنے تیز بہاؤ اور پوشیدہ گڑھوں کی وجہ سے انتہائی خطرناک مانا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی سکھر بیراج اور روہڑی کے ساحلی مقامات پر اس طرح کے درجنوں دلخراش واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جہاں حفاظتی اقدامات، حفاظتی باڑ یا لائف گارڈز نہ ہونے کی وجہ سے معصوم جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے گرمیوں میں دفعہ 144 کے تحت دریا میں نہانے پر پابندی تو عائد کی جاتی ہے، لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں ہمیشہ ناکامی کا سامنا رہا ہے۔
ریسکیو آپریشن میں درپیش مشکلات
ایدھی اور مقامی انتظامیہ کے غوطہ خوروں کے مطابق اس وقت دریائے سندھ میں پانی کے تیز ’انڈر کرنٹ’ یعنی زیرِ زمین شدید بہاؤ کی وجہ سے لاپتا بچوں کی تلاش میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مٹیالے اور گدلے پانی کے باعث دریا کی تہہ میں دیکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
مقامی ضلعی افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے متاثرہ خاندان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ریسکیو اداروں کو ہدایت کی ہے کہ جب تک باقی 2 بچوں کا سراغ نہیں مل جاتا، یہ آپریشن بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا جائے۔ رات کے وقت بھی سرچ آپریشن کو ممکن بنانے کے لیے فلڈ لائٹس اور بڑی کشتیوں کا انتظام کر لیا گیا ہے۔